حدیث نمبر: 2735
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ: ابْنُ إِسْحَاق، عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تَقُولُوا لِحَائِطِ الْعِنَبِ الْكَرْمُ، إِنَّمَا الْكَرْمُ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انگوروں کے باغ کو کرم نہ کہو کیونکہ کرم تو مسلمان مرد ہوتا ہے۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 2734)
انگور کو کرم کہنے سے اس لئے روکا کیونکہ اس سے شراب بنتی ہے، اور عرب کے لوگ اسے کرم اس لئے کہتے کہ ان کے خیال میں شراب نوشی سے سخاوت اور بزرگی پیدا ہوتی تھی۔
ان کے خیال کے رد میں اس نام سے پکارنے سے منع فرمایا۔
نیز بتایا کہ کرم تو مسلم کی صفت ہے، جو مجسم کرم ہوتا ہے۔
واللہ اعلم۔
انگور کو کرم کہنے سے اس لئے روکا کیونکہ اس سے شراب بنتی ہے، اور عرب کے لوگ اسے کرم اس لئے کہتے کہ ان کے خیال میں شراب نوشی سے سخاوت اور بزرگی پیدا ہوتی تھی۔
ان کے خیال کے رد میں اس نام سے پکارنے سے منع فرمایا۔
نیز بتایا کہ کرم تو مسلم کی صفت ہے، جو مجسم کرم ہوتا ہے۔
واللہ اعلم۔