حدیث نمبر: 2732
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ هُوَ: ابْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ أُمَّ عَاصِمٍ كَانَ يُقَالُ لَهَا عَاصِيَةُ، "فَسَمَّاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمِيلَةَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدہ ام عاصم رضی اللہ عنہا جن کا نام عاصیہ (نافرمان) تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام (بدل کر) جمیلہ رکھ دیا۔
حدیث نمبر: 2733
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قالَ: كَانَ اسْمُ زَيْنَبَ، بَرَّةَ، "فَسَمَّاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا نام برۃ (بہت نیکوکار) تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (بدل کر) زینب رکھ دیا۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 2731 سے 2733)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ وہ نام جن کے معانی اچھے نہ ہوں انہیں بدل دینا چاہیے، جیسے عاصیہ، حزن وغیرہ نام ہیں، اسی طرح وہ نام جن میں تزکیہ یا خودنمائی پائی جائے وہ بھی بدل دیئے جائیں۔
جیسے برہ ہے، لوگ کہتے تھے کہ وہ اپنے آپ کو نیک و اچھی سمجھتی ہیں اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام برہ کے بجائے زینب رکھ دیا۔
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ وہ نام جن کے معانی اچھے نہ ہوں انہیں بدل دینا چاہیے، جیسے عاصیہ، حزن وغیرہ نام ہیں، اسی طرح وہ نام جن میں تزکیہ یا خودنمائی پائی جائے وہ بھی بدل دیئے جائیں۔
جیسے برہ ہے، لوگ کہتے تھے کہ وہ اپنے آپ کو نیک و اچھی سمجھتی ہیں اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام برہ کے بجائے زینب رکھ دیا۔