حدیث نمبر: 2725
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ هُوَ: ابْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي مَرْحُومٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ لَبِسَ ثَوْبًا، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي هَذَا وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
معاذ بن انس سے مروی ہے ان کے والد نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص نیا کپڑا پہنتے وقت یہ کہے: «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ كَسَانِيْ هٰذَا وَرَزَقَنِيْهٖ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّىْ وَلَا قُوَّةٍ» تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔“
(ترجمہ) سب خوبیاں الله تعالیٰ ہی کے لئے ہیں جس نے مجھے یہ کپڑا پہنایا اور میری محنت وقوت کے بنا مجھے یہ کپڑا عطا فرمایا۔
(ترجمہ) سب خوبیاں الله تعالیٰ ہی کے لئے ہیں جس نے مجھے یہ کپڑا پہنایا اور میری محنت وقوت کے بنا مجھے یہ کپڑا عطا فرمایا۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 2724)
ابوداؤد میں ہے: جو شخص یہ دعا پڑھے (ترجمہ) سب خوبیاں الله تعالیٰ ہی کے لئے ہیں جس نے مجھے یہ کپڑا پہنایا، اور میری محنت و قوت کے بنا مجھے یہ کپڑا عطا فرمایا، تو اس کے اگلے پچھلے سب گناہ بخشے جاتے ہیں۔
نیا کپڑا پہنتے وقت یہ دعا پڑھنا مسنون و مستحب ہے، اس میں الله کا شکر و حمد و ثنا ہے، اور اس حدیث میں گناہِ صغیرہ کی معافی کی نوید ہے۔
واضح رہے کہ کبیرہ گناہ سے توبہ کرنا ضروری ہے۔
ابوداؤد میں ہے: جو شخص یہ دعا پڑھے (ترجمہ) سب خوبیاں الله تعالیٰ ہی کے لئے ہیں جس نے مجھے یہ کپڑا پہنایا، اور میری محنت و قوت کے بنا مجھے یہ کپڑا عطا فرمایا، تو اس کے اگلے پچھلے سب گناہ بخشے جاتے ہیں۔
نیا کپڑا پہنتے وقت یہ دعا پڑھنا مسنون و مستحب ہے، اس میں الله کا شکر و حمد و ثنا ہے، اور اس حدیث میں گناہِ صغیرہ کی معافی کی نوید ہے۔
واضح رہے کہ کبیرہ گناہ سے توبہ کرنا ضروری ہے۔