کتب حدیثسنن دارميابوابباب: جب کسی جگہ پڑاؤ ڈالیں تو کیا کہیں ؟
حدیث نمبر: 2715
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاق، وَعَفَّانُ , قَالَا: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلانَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: "لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا نَزَلَ مَنْزِلًا، قَالَ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، لَمْ يَضُرَّهُ فِي ذَلِكَ الْمَنْزِلِ شَيْءٌ حَتَّى يَرْتَحِلَ مِنْهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ خولہ بنت حکیم رضی الله عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی (سفرمیں) کسی جگہ میں اترے اور یہ کہہ لے «أَعُوْذُ بِكَلِمَاتِ اللّٰهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ» تو اس منزل کی کوئی چیز اسے نقصان نہ پہنچائے گی یہاں تک کہ اس جگہ سے کوچ کرے۔“
ترجمہ دعا: میں اللہ کے مکمل کلمات کے ساتھ پناہ چاہتا ہوں اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الاستئذان / حدیث: 2715
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده حسن من أجل محمد بن عجلان ولكن الحديث صحيح ووهيب هو: ابن خالد
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن من أجل محمد بن عجلان ولكن الحديث صحيح ووهيب هو: ابن خالد، [مكتبه الشامله نمبر: 2722]» ¤ اس روایت کی سند محمد بن عجلان کی وجہ سے حسن ہے، لیکن حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 2708] ، [ترمذي 3437] ، [ابن ماجه 3547] ، [أحمد 409/6] ، [طبراني 237/24، 603] ، [ابن خزيمه 2567] ، [شرح السنة 145/5، 1347]