کتب حدیثسنن دارميابوابباب: مسافر اوپر چڑھتے اور نیچے اترتے وقت کیا کہے ؟
حدیث نمبر: 2709
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو زُبَيْدٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: "كُنَّا إِذَا صَعِدْنَا، كَبَّرْنَا، وَإِذَا هَبَطْنَا، سَبَّحْنَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: ہم جب اونچائی پر چڑھتے تو اللہ اکبر کہتے اور جب نیچے اترتے تو سبحان اللہ کہتے تھے۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 2708)
کسی بھی صحابی کا یہ کہنا کہ ہم ایسا کرتے تھے مرفوع کا درجہ رکھتا ہے، لہٰذا چڑھائی چڑھتے ہوئے اللہ اکبر کہنا اور اترتے ہوئے سبحان الله کہنا ثابت ہوا۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الاستئذان / حدیث: 2709
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح وأبو زبيد هو: عبثر بن القاسم
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح وأبو زبيد هو: عبثر بن القاسم، [مكتبه الشامله نمبر: 2716]» ¤ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2993، 2994] ، [ابن خزيمه 2562] و [أحمد بسند ضعيف 333/3] ۔ اور ابوزبید کا نام عبثر بن القاسم ہے۔