حدیث نمبر: 2703
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: "ارْكَبُوا هَذِهِ الدَّوَابَّ سَالِمَةً، وَلَا تَتَّخِذُوهَا كَرَاسِيَّ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سہل بن انس سے مروی ہے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان جانوروں پر سوار رہو جب تک کہ وہ تھکے اور مجروح نہ ہوں اور انہیں کرسی نہ بناؤ۔“
حدیث نمبر: 2704
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ اللَّيْثِ إِلَّا أَنَّهُ مُخَالِفٌ شَبَابَةَ فِي شَيْءٍ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: عبداللہ بن صالح نے ہم کو خبر دی لیث سے، لیکن ان کی روایت شبابہ بن سوار سے کچھ مختلف ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 2702 سے 2704)
اسلامی شریعت نے جانوروں پر بھی رحم کرنے کی تعلیم دی ہے، اور اس بارے میں متعدد احادیث مروی ہیں جن میں سے ایک مذکورہ بالا روایت ہے جس میں حکم دیا گیا ہے کہ بے جان کرسی کی طرح وقت بے وقت انسان اس پر بیٹھا نہ رہے۔
ایک روایت ہے: «أركبوها غير مقروحة» ۔
مسند احمد میں مفصل روایت یوں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ پر سوار لوگوں کو بازار میں دیکھا جو گپ شپ میں لگے ہوئے تھے، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إِرْكَبُوْهَا، سَالِمَةً وَدَعُوْهَا سَالِمَةً وَلَا تَتَّخِذُوْهَا كَرَاسِيِّ.» دیکھئے [مسند أحمد 439/2، 15714، 15735]۔
اسلامی شریعت نے جانوروں پر بھی رحم کرنے کی تعلیم دی ہے، اور اس بارے میں متعدد احادیث مروی ہیں جن میں سے ایک مذکورہ بالا روایت ہے جس میں حکم دیا گیا ہے کہ بے جان کرسی کی طرح وقت بے وقت انسان اس پر بیٹھا نہ رہے۔
ایک روایت ہے: «أركبوها غير مقروحة» ۔
مسند احمد میں مفصل روایت یوں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ پر سوار لوگوں کو بازار میں دیکھا جو گپ شپ میں لگے ہوئے تھے، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إِرْكَبُوْهَا، سَالِمَةً وَدَعُوْهَا سَالِمَةً وَلَا تَتَّخِذُوْهَا كَرَاسِيِّ.» دیکھئے [مسند أحمد 439/2، 15714، 15735]۔