کتب حدیثسنن دارميابوابباب: اہل و عیال پر نان و نفقہ خرچ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2699
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ أَخْبَرَنِي، قالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْبَدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: "الْمُسْلِمُ إِذَا أَنَفْقَ نَفَقَةً عَلَى أَهْلِهِ وَهُوَ يَحْتَسِبُهَا، فَهِيَ لَهُ صَدَقَةٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مسلمان اپنے اہل و عیال (بیوی بچوں) پر الله تعالیٰ سے ثواب کی امید میں خرچ کرتا ہے تو وہ (خرچ) اس کے لئے صدقہ ہے۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 2698)
جو شخص اپنے بیوی بچوں پر احتساب کی نیت سے جو کچھ بھی خرچ کرے گا اس کو صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آدمی پر اپنے بیوی بچوں کا نان و نفقہ فرض ہے۔
حدیث سیدہ ام معاویہ رضی اللہ عنہا میں ہے کہ جتنے خرچ کی ضرورت ہو اگر شوہر نہ دے تو عورت معروف کے ساتھ خاوند کی لا علمی میں اس کے مال سے اپنا اور بچوں کا خرچ لے سکتی ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الاستئذان / حدیث: 2699
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2706]» ¤ اس روایت کی سند صحیح ہے اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 55، 5351] ، [مسلم 1002] ، [ترمذي 1965] ، [نسائي 2544] ، [ابن حبان 4238] ، [الطيالسي 1638] ، [معرفة السنن و الآثار 8508]