حدیث نمبر: 2687
أَخْبَرَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، قَالَ: دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ نِسْوَةٌ مِنْ أَهْلِ حِمْصَ يَسْتَفْتِينَهَا، فَقَالَتْ: لَعَلَّكُنَّ مِنَ النِّسْوَةِ اللَّاتِي يَدْخُلْنَ الْحَمَّامَاتِ؟ . قُلْنَ: نَعَمْ . قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: "مَا مِنْ امْرَأَةٍ تَضَعُ ثِيَابَهَا فِي غَيْرِ بَيْتِ زَوْجِهَا، إِلَّا هَتَكَتْ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" . [إسناده منقطع أبو الجعد سالم لم يسمع من عائشة ولكن الحديث صحيح بالإسناد التالي. ويعلى هو: ابن عبيد] ¤ قَالَ أَبُو مُحَمَّد: أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ عَائِشَةَ، هَذَا الْحَدِيثَ. [إسناده صحيح وهو مكرر سابقه]
محمد الیاس بن عبدالقادر
سالم بن ابی الجعد نے کہا: ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں کچھ حمص (شام) کی عورتیں حاضر ہوئیں، ان سے کچھ پوچھنا چاہتی تھیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: شاید تم ان عورتوں میں سے ہو جو حمام میں جاتی ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”جس عورت نے اپنے خاوند کے گھر کے سوا کسی اور جگہ اپنے کپڑے اتارے تو اس نے وہ پردہ پھاڑ ڈالا جو اس کے اور اللہ کے درمیان ہے۔“
امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: ہمیں عبیداللہ نے خبر دی اسرائیل سے، انہوں نے منصور سے، انہوں نے سالم سے، انہوں نے ابوالملیح سے، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ حدیث روایت کی۔
امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: ہمیں عبیداللہ نے خبر دی اسرائیل سے، انہوں نے منصور سے، انہوں نے سالم سے، انہوں نے ابوالملیح سے، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ حدیث روایت کی۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 2686)
پہلے زمانے میں گھروں میں غسل خانوں کا رواج نہ تھا اور مرد و عورت باہر جا کر حمامات میں نہایا کرتے تھے، جہاں مالش بھی ہوتی، گرم پانی ملتا، اور اکثر عورت مرد یکجا ہو جاتے، عریانیت و فحاشی، فسق و فجور تک نوبت پہنچ جاتی۔
آج بھی ہندوستان و پاکستان میں بعض مقامات میں ایسے حمام پائے جاتے ہیں۔
کیونکہ اس میں اختلاط مرد و زن اور بے حیائی ہوتی ہے، اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان حمامات میں جانے سے منع فرمایا۔
ہاں! مرد کے لئے کامل ستر پوشی کے ساتھ جہاں اختلاط نہ ہو نہانا جائز ہے، اور مرد کا مرد کے سامنے بھی کشفِ ستر جائز نہیں، چہ جائے کہ مرد عورت کے سامنے یا عورت مرد کے سامنے برہنہ ہو۔
یہ اللہ کے پردے کو چاک کرنا ہے، یعنی شرم و حیا، تقویٰ و پرہیزگاری اور عصمت و عفت کا پردہ ایسا کرنے سے پھٹ جاتا ہے، کیونکہ عورت جب اپنے گھر کے علاوہ کہیں کپڑے اتارے گی تو اس کا فسق و فجور میں مبتلا ہونا یقینی ہے۔
پہلے زمانے میں گھروں میں غسل خانوں کا رواج نہ تھا اور مرد و عورت باہر جا کر حمامات میں نہایا کرتے تھے، جہاں مالش بھی ہوتی، گرم پانی ملتا، اور اکثر عورت مرد یکجا ہو جاتے، عریانیت و فحاشی، فسق و فجور تک نوبت پہنچ جاتی۔
آج بھی ہندوستان و پاکستان میں بعض مقامات میں ایسے حمام پائے جاتے ہیں۔
کیونکہ اس میں اختلاط مرد و زن اور بے حیائی ہوتی ہے، اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان حمامات میں جانے سے منع فرمایا۔
ہاں! مرد کے لئے کامل ستر پوشی کے ساتھ جہاں اختلاط نہ ہو نہانا جائز ہے، اور مرد کا مرد کے سامنے بھی کشفِ ستر جائز نہیں، چہ جائے کہ مرد عورت کے سامنے یا عورت مرد کے سامنے برہنہ ہو۔
یہ اللہ کے پردے کو چاک کرنا ہے، یعنی شرم و حیا، تقویٰ و پرہیزگاری اور عصمت و عفت کا پردہ ایسا کرنے سے پھٹ جاتا ہے، کیونکہ عورت جب اپنے گھر کے علاوہ کہیں کپڑے اتارے گی تو اس کا فسق و فجور میں مبتلا ہونا یقینی ہے۔