حدیث نمبر: 2681
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنِي رِبْعِيُّ بْنُ حِرَاشٍ، عَنِ امْرَأَتِهِ، عَنْ أُخْتٍ لِحُذَيْفَةَ، قَالَتْ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: "يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، أَمَا لَكُنَّ فِي الْفِضَّةِ مَا تَحَلَّيْنَ بِهِ ؟ أَمَا إِنَّهُ لَيْسَتْ مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ تَحَلَّى الذَّهَبَ فَتُظْهِرَهُ، إِلَّا عُذِّبَتْ بِهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی بہن نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا تو فرمایا: ”اے عورتو! کیا تم چاندی کے زیور نہیں پہن سکتیں؟ دیکھو: تم میں سے جو عورت بھی سونے کا زیور پہن کر اس کو دکھلائے گی (یعنی اپنی زینت ظاہر کرے گی مردوں پر فخر و غرور اور بے غیرتی سے) تو وہ اس کی وجہ سے عذاب میں مبتلا کی جائے گی۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 2680)
حدیث ضعیف ہے، اس لئے سونے کے زیور کے استعمال سے ممانعت کی دلیل نہیں بن سکتی۔
عورت کے لئے سونے و چاندی کے زیور پہننے کی اجازت ہے۔
رہا مسئلہ زیب و زینت دکھانے کا تو یہ سونے، چاندی اور کپڑے و میک اپ سب کو داخل ہے، اور کسی بھی مسلمان عورت کے لئے اپنی زینت کا اظہار کرنا جائز نہیں، جیسا کہ قرآن پاک میں ہے: «﴿وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى .....﴾ [الأحزاب: 33]» ترجمہ: ”اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیم زمانۂ جاہلیت کی طرح اپنے بناؤ سنگھار کا اظہار نہ کرو .....“۔
حدیث ضعیف ہے، اس لئے سونے کے زیور کے استعمال سے ممانعت کی دلیل نہیں بن سکتی۔
عورت کے لئے سونے و چاندی کے زیور پہننے کی اجازت ہے۔
رہا مسئلہ زیب و زینت دکھانے کا تو یہ سونے، چاندی اور کپڑے و میک اپ سب کو داخل ہے، اور کسی بھی مسلمان عورت کے لئے اپنی زینت کا اظہار کرنا جائز نہیں، جیسا کہ قرآن پاک میں ہے: «﴿وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى .....﴾ [الأحزاب: 33]» ترجمہ: ”اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیم زمانۂ جاہلیت کی طرح اپنے بناؤ سنگھار کا اظہار نہ کرو .....“۔