حدیث نمبر: 2677
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ الْحُضَيْنِ، عَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ: أَنَّهُ سَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ، "فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ حَتَّى تَوَضَّأَ، فَلَمَّا تَوَضَّأَ، رَدَّهُ عَلَيْهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا مہاجر بن قنفذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سلام کیا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کر رہے تھے تو آپ نے ان کے سلام کا جواب نہیں دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، تب سلام کا جواب دیا۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 2676)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پیشاب کرنے والے کو نہ سلام کرنا چاہیے اور نہ وہ ایسی حالت میں جواب دے، اور جواب دینے کے لئے وضو کرنا ضروری نہیں ہے۔
ابن ماجہ میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیمّم کیا پھر جواب دیا، لیکن وہ روایت بہت ضعیف ہے۔
«كما مر آنفا» ۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پیشاب کرنے والے کو نہ سلام کرنا چاہیے اور نہ وہ ایسی حالت میں جواب دے، اور جواب دینے کے لئے وضو کرنا ضروری نہیں ہے۔
ابن ماجہ میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیمّم کیا پھر جواب دیا، لیکن وہ روایت بہت ضعیف ہے۔
«كما مر آنفا» ۔