حدیث نمبر: 2672
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَيَّارٍ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، فَمَرَّ بِصِبْيَانٍ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، وَحَدَّثَ ثَابِتٌ أَنَّهُ كَانَ مَعَ أَنَسٍ فَمَرَّ بِصِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، وَحَدَّثَ أَنَسٌ: "أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّ بِصِبْيَانٍ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیار نے کہا: میں ثابت البنانی کے ہمراہ چل رہا تھا، وہ بچوں کے پاس سے گزرتے تو انہیں سلام کرتے، پھر حدیث بیان کی کہ وہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، جب بچوں کے پاس سے گزرتے تو انہیں سلام کرتے، اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ بچوں کے پاس سے گذرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کیا۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 2671)
بچوں کو سلام کرنے میں تواضع جھلکتی ہے، اور اس میں ان کی دلجوئی کا اہتمام اور ان کے لئے سلامتی کی دعا ہے۔
اس کے علاوہ ان پر سلام کی اہمیت بھی واضح ہوتی ہے۔
اس لئے بچوں کو سلام کرنا سنّت اور اسوۂ پیغمبر ہے۔
بچوں کو سلام کرنے میں تواضع جھلکتی ہے، اور اس میں ان کی دلجوئی کا اہتمام اور ان کے لئے سلامتی کی دعا ہے۔
اس کے علاوہ ان پر سلام کی اہمیت بھی واضح ہوتی ہے۔
اس لئے بچوں کو سلام کرنا سنّت اور اسوۂ پیغمبر ہے۔