حدیث نمبر: 2669
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لِلْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتٌّ: يُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ وَيُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ، وَيَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ، وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ، وَيَشْهَدُهُ إِذَا تُوُفِّيَ، وَيُحِبُّ لَهُ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ، وَيَنْصَحُ لَهُ بِالْغَيْبِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امیر المومنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کے مسلمان پر چھ حق ہیں: جب ملے تو اسے سلام کرے، جب اسے چھینک آئے تو جواب دے (یعنی چھینکنے والا الحمد للہ کہے تو جواب میں یرحمک اللہ کہے)، بیمار ہو جائے تو اس کی بیمار پرسی کرے، جب اسے دعوت دے تو قبول کر لے، جب فوت ہو جائے تو (تجہیز و تکفین و تدفین میں) حاضری دے۔ جو اپنے لئے پسند کرے وہی اپنے مسلمان بھائی کے لئے پسند کرے اور اس کی غیر حاضری میں اس کی خیر خواہی کرے۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 2668)
سلام کرنا، چھینک آنے پر جو الحمد للہ کہے اسے جواب دینا، بیمار پرسی کرنا، دعوت قبول کرنا، جنازے میں شریک ہونا، جو اپنے لئے پسند کرے وہی اس کے لئے پسند کرنا، اور پیٹھ پیچھے اس کے ساتھ بھلائی کرنا، یہ تمام حسنِ اخلاق اور اعمالِ صالحہ ہیں، جن پر سب کو عمل کرنا چاہیے۔
آج کے دور میں پیٹھ پیچھے بھلائی کرنا بہت کم دیکھنے میں آتا ہے۔
اکثر مسلمان ایک دوسرے کی غیبت اور عیب جوئی کرتے ہیں جو بہت بڑا گناہ ہے۔
الله تعالیٰ سب کو ہدایت دے، آمین۔
سلام کرنا، چھینک آنے پر جو الحمد للہ کہے اسے جواب دینا، بیمار پرسی کرنا، دعوت قبول کرنا، جنازے میں شریک ہونا، جو اپنے لئے پسند کرے وہی اس کے لئے پسند کرنا، اور پیٹھ پیچھے اس کے ساتھ بھلائی کرنا، یہ تمام حسنِ اخلاق اور اعمالِ صالحہ ہیں، جن پر سب کو عمل کرنا چاہیے۔
آج کے دور میں پیٹھ پیچھے بھلائی کرنا بہت کم دیکھنے میں آتا ہے۔
اکثر مسلمان ایک دوسرے کی غیبت اور عیب جوئی کرتے ہیں جو بہت بڑا گناہ ہے۔
الله تعالیٰ سب کو ہدایت دے، آمین۔