حدیث نمبر: 2471
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ هُوَ: ابْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ مِنْ بَعْدِي مِنْ أُمَّتِي قَوْمًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لا يُجَاوِزُ حَلاقِيمَهُمْ، يَخْرُجُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَخْرُجُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ثُمَّ لا يَعُودُونَ فِيهِ، هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ" . قَالَ سُلَيْمَانُ: قَالَ حُمَيْدٌ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّامِتِ: فَلَقِيتُ رَافِعًا أَخَا الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ، فَحَدَّثْتُهُ هَذَا الْحَدِيثَ . قَالَ رَافِعٌ: وَأَنَا أَيْضًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں میرے بعد ایک ایسی قوم ہوگی جو قرآن پڑھے گی اور وہ ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اترے گا (یعنی بے عمل ہونگے)، وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے، اور وہ پھر دین کی طرف لوٹ کر نہ آ ئیں گے، وہ لوگ ساری مخلوق سے بدتر ہیں۔“
سلیمان نے کہا: حمید نے کہا: سیدنا عبداللہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر میں سیدنا رافع بن عمرو الغفاری رضی اللہ عنہ، حکم بن عمرو الغفاری کے بھائی سے ملا اور یہ حدیث بیان کی، سیدنا رافع رضی اللہ عنہ نے کہا: اور میں نے بھی یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔
سلیمان نے کہا: حمید نے کہا: سیدنا عبداللہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر میں سیدنا رافع بن عمرو الغفاری رضی اللہ عنہ، حکم بن عمرو الغفاری کے بھائی سے ملا اور یہ حدیث بیان کی، سیدنا رافع رضی اللہ عنہ نے کہا: اور میں نے بھی یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 2470)
اس صحیح حدیث سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی حرف بحرف ثابت ہوئی، اور خلافتِ راشدہ میں ہی ایسے بے دین لوگ پیدا ہوئے جو دین سے نکل گئے، اور وہ خوارج کی جماعت ہے، آج بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں قرآن پڑھتے ہیں لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترتا ہے۔
بے عمل، بے دین اور نام کے مسلمان ہیں۔
«أُوْلٰئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ» يقيناً ایسے لوگ ساری مخلوق سے بدتر ہیں۔
«اَللّٰهُمَّ اهْدِ ضَالَّ الْمُسْلِمِيْنَ» ایسے گمراہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ ہدایت نصیب فرمائے۔
آمین۔
اس صحیح حدیث سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی حرف بحرف ثابت ہوئی، اور خلافتِ راشدہ میں ہی ایسے بے دین لوگ پیدا ہوئے جو دین سے نکل گئے، اور وہ خوارج کی جماعت ہے، آج بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں قرآن پڑھتے ہیں لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترتا ہے۔
بے عمل، بے دین اور نام کے مسلمان ہیں۔
«أُوْلٰئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ» يقيناً ایسے لوگ ساری مخلوق سے بدتر ہیں۔
«اَللّٰهُمَّ اهْدِ ضَالَّ الْمُسْلِمِيْنَ» ایسے گمراہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ ہدایت نصیب فرمائے۔
آمین۔