کتب حدیثسنن دارميابوابباب: کوئی آدمی غزوہ کرے لیکن نیت میں کھوٹ ہو
حدیث نمبر: 2453
أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا جَبَلَةُ بْنُ عَطِيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "مَنْ غَزَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَهُوَ لَا يَنْوِي فِي غَزَاتِهِ إِلَّا عِقَالًا، فَلَهُ مَا نَوَى".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرے اور نیت نہ رکھے اپنے غزوے میں مگر ایک رسی کی تو اس کو وہی چیز ملے گی۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 2452)
یعنی جہاد کا ثواب اسے نہ ملے گا کیونکہ اس کی نیت خالص نہ تھی، گرچہ رسی کوئی بڑی چیز نہیں مگر اتنی ذرا سی غرض اور لالچ رکھنے سے خلوص کو دھبہ لگتا ہے اور ثواب مٹ جاتا ہے۔
انسان کو چاہیے کہ اپنے ہر کام میں اس کا خیال رکھے، کیونکہ جیسی نیت ویسی ہی مراد ملے گی۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الجهاد / حدیث: 2453
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده جيد
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 2460]» ¤ اس حدیث کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [نسائي 3138] ، [ابن حبان 4638] ، [موارد الظمآن 1605]