کتب حدیثسنن دارميابوابباب: انگلیوں کی دیت کا بیان
حدیث نمبر: 2406
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ غَالِبٍ التَّمَّارِ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "الْأَصَابِعُ سَوَاءٌ"، قَالَ: فَقُلْتُ: عَشْرٌ عَشْرٌ ؟، قَالَ: "نَعَمْ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انگلیاں سب برابر ہیں۔“ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: (ہر انگلی پر) دس ہیں۔ فرمایا: ”ہاں۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 2405)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہاتھ اور پیر کی سب انگلیوں کی دیت دس دس اونٹ ہے، ہر انگلی پر دیت کا دسواں حصہ، اگر کوئی کسی کی دسوں انگلیاں کاٹ دے تو پوری دیت لازم ہوگی۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے کہ ہاتھ کی انگلیاں اور پاؤں کی انگلیاں سب برابر ہیں، اور ہر انگلی میں دس اونٹ ہیں، جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الديات / حدیث: 2406
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده جيد مسروق بن أوس
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد مسروق بن أوس، [مكتبه الشامله نمبر: 2414]» ¤ اس روایت کی سند جید قابلِ احتجاج ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 4557] ، [نسائي 4860] ، [ابن ماجه 2654] ، [أبويعلی 7334] ، [ابن حبان 6013] ، [الموارد 1527]
حدیث نمبر: 2407
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "هَذَا وَهَذَا سَوَاء , وَقَالَ: بِخِنْصِرِهِ وَإِبْهَامِهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اور یہ (سب) برابر ہیں“ اور چھنگلیا اور انگوٹھے کی طرف اشارہ کیا۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 2406)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ چھوٹی انگلیاں، چھنگلیا اور انگوٹھا دیت میں سب برابر ہیں، حالانکہ انگوٹھے میں دو ہی جوڑ ہوتے ہیں، اور بڑی انگلیوں کے مقابلہ میں چھنگلیا چھوٹی ہوتی ہے، اور انگوٹھا چھنگلی کے مقابلے میں زیادہ سود مند ہوتا ہے، لیکن دیت دس اونٹ ہی ہونگے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الديات / حدیث: 2407
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2415]» ¤ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6895] ، [أبوداؤد 4558] ، [ترمذي 1392] ، [نسائي 4863] ، [ابن ماجه 2652] ، [ابن حبان 6012] ، [موارد الظمان 1528] ، [ابن أبى شيبه 7033] ، [ابن الجارود 782]
حدیث نمبر: 2408
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ: "وَفِي كُلِّ إِصْبَعٍ مِنْ أَصَابِعِ الْيَدِ وَالرِّجْلِ عَشْرَةٌ مِنَ الْإِبِلِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوبکر بن عمرو بن حزم نے اپنے باپ کے حوالے سے اپنے دادا سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ یمن کو تحریر فرمایا کہ: ”ہاتھ اور پیروں کی ہر انگلی کے عوض دس اونٹ (دیت) ہے۔“
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الديات / حدیث: 2408
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 2416]» ¤ اس روایت کی سند ضعیف ہے لیکن معنی صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن حبان 6559] ، [موارد الظمان 793] ۔ آگے بھی یہ حدیث آرہی ہے۔