حدیث نمبر: 2405
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ: "أَنَّ عَبْدًا لِأُنَاسٍ فُقَرَاءَ، قَطَعَ يَدَ غُلَامٍ لِأُنَاسٍ أَغْنِيَاءَ . فَأَتَى أَهْلُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ لِأُنَاسٍ فُقَرَاءَ ؟ فَلَمْ يَجْعَلْ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فقیروں کے غلام نے مالداروں کے غلام کا ہاتھ کاٹ ڈالا، اس کے مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، لوگوں نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ غلام فقیروں کا ہے (یعنی جو دیت ادا نہیں کر سکتے) اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر کچھ بھی (دیت) مقرر نہ کی۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 2404)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جانی اگر غیرمستطیع ہو تو اس سے دیت معاف کر دی جائے گی، اور بیت المال سے دیت ادا کرنی ہوگی۔
ابوداؤد وغیرہ میں غلام نہیں بلکہ عام لڑکے کا ذکر ہے جس کا کان کاٹ دیا تھا۔
المنتقی میں امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے دادا نے کہا کہ عاقلہ یعنی (دیت ادا کرنے والے) فقیر ہوں تو ان پر ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے اور اس صورت میں قاتل سے بھی مواخذہ نہیں ہوگا۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جانی اگر غیرمستطیع ہو تو اس سے دیت معاف کر دی جائے گی، اور بیت المال سے دیت ادا کرنی ہوگی۔
ابوداؤد وغیرہ میں غلام نہیں بلکہ عام لڑکے کا ذکر ہے جس کا کان کاٹ دیا تھا۔
المنتقی میں امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے دادا نے کہا کہ عاقلہ یعنی (دیت ادا کرنے والے) فقیر ہوں تو ان پر ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے اور اس صورت میں قاتل سے بھی مواخذہ نہیں ہوگا۔