حدیث نمبر: 2394
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَونٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تُقَامُ الْحُدُودُ فِي الْمَسَاجِدِ، وَلَا يُقَادُ بِالْوَلَدِ الْوَالِدُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسجد کے اندر حدیں (سزائیں) نہ قائم کی جائیں اور نہ کوئی باپ بیٹے کے بدلے میں مارا جائے۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 2393)
اس حدیث میں دو مسئلے بیان کئے گئے: پہلا تو یہ کہ باپ کو بیٹے کے بدلے قتل نہیں کیا جائے۔
دوسرے یہ کہ مساجد کے اندر حد کی سزائیں نافذ نہ کی جائیں، کیونکہ اس سے مسجد میں چیخ و پکار ہوگی، اور خون وغیرہ سے مسجد کے نجس ہونے کا بھی اندیشہ ہے، اور مسجد صرف نماز، تلاوت، عبادت، علم اور فیصلے کیلئے ہے۔
مار پیٹ و سزا دینا، مسجد میں مناسب نہیں، اسی لئے امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب اور امیر المومنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما مسجد سے باہر حدود نافذ کرتے تھے۔
آج تک بلاد الحرمین میں یہی ہوتا ہے۔
اس حدیث میں دو مسئلے بیان کئے گئے: پہلا تو یہ کہ باپ کو بیٹے کے بدلے قتل نہیں کیا جائے۔
دوسرے یہ کہ مساجد کے اندر حد کی سزائیں نافذ نہ کی جائیں، کیونکہ اس سے مسجد میں چیخ و پکار ہوگی، اور خون وغیرہ سے مسجد کے نجس ہونے کا بھی اندیشہ ہے، اور مسجد صرف نماز، تلاوت، عبادت، علم اور فیصلے کیلئے ہے۔
مار پیٹ و سزا دینا، مسجد میں مناسب نہیں، اسی لئے امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب اور امیر المومنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما مسجد سے باہر حدود نافذ کرتے تھے۔
آج تک بلاد الحرمین میں یہی ہوتا ہے۔