حدیث نمبر: 2355
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ إِسْحَاق بْنِ يَسَارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ بْنِ نَصْرِ بْنِ دَهْرٍ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ فِيمَنْ رَجَمَهُ، قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ: يَعْنِي مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ، فلَمَّا وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ، جَزِعَ جَزَعًا شَدِيدًا، قَالَ: فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "فَهَلَّا تَرَكْتُمُوهُ ؟".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوہیثم بن نصر بن دہر اسلمی نے اپنے والد سیدنا نصر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے ان کو رجم کیا (امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا) یعنی ماعز بن مالک اسلمی رضی اللہ عنہ کے رجم کے وقت اور جب انہیں پتھر لگے تو اذیت سے بہت گھبرائے، ہم نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اسے چھوڑ کیوں نہ دیا۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 2354)
ابوداؤد میں ہے کہ پتھر لگے تو وہ بھاگے لیکن انہیں پکڑ کر رجم کر دیا گیا، اور آخر میں ہے کہ تم اسے چھوڑ دیتے شاید وہ توبہ کرتے اور اللہ تعالیٰ ان کوبخش دیتا۔
امام مالک و امام ابوحنیفہ رحمہما اللہ کا یہی قول ہے کہ اگر حد لگانے کی حالت میں وہ بھاگ نکلے تو بھی اس کو نہ چھوڑیں بلکہ سمجھا کر اس کو رجم کر ڈالیں، امام شافعی اور امام احمد رحمہما اللہ اور اکثر علماء کے نزدیک اگر زنا اس کے اقرار سے ثابت ہوا تو چھوڑ دیں اور حد موقوف رکھیں، پھر اگر وہ اقرار کرے تو رجم کیا جائے ورنہ نہیں (وحیدی)۔
ابوداؤد میں ہے کہ پتھر لگے تو وہ بھاگے لیکن انہیں پکڑ کر رجم کر دیا گیا، اور آخر میں ہے کہ تم اسے چھوڑ دیتے شاید وہ توبہ کرتے اور اللہ تعالیٰ ان کوبخش دیتا۔
امام مالک و امام ابوحنیفہ رحمہما اللہ کا یہی قول ہے کہ اگر حد لگانے کی حالت میں وہ بھاگ نکلے تو بھی اس کو نہ چھوڑیں بلکہ سمجھا کر اس کو رجم کر ڈالیں، امام شافعی اور امام احمد رحمہما اللہ اور اکثر علماء کے نزدیک اگر زنا اس کے اقرار سے ثابت ہوا تو چھوڑ دیں اور حد موقوف رکھیں، پھر اگر وہ اقرار کرے تو رجم کیا جائے ورنہ نہیں (وحیدی)۔