حدیث نمبر: 2201
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْج، عَنْ أَبِي الْمُغَلِّسِ، عَنْ أَبِي نَجِيحٍ، قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ قَدَرَ عَلَى أًنّ يَنْكِح، فَلَمْ يَنْكِحْ، فَلَيْسَ مِنَّا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابونجیح نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص قدرت نکاح کے باوجود نکاح (شادی) نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 2200)
نکاح لغت میں جماع کو کہتے ہیں اور شرعی اصطلاح میں یہ عبارت ہے اس عقد سے جس سے مرد عورت کا مالک بن جاتا ہے، اور عورت سے ہر طرح کا استمتاع جائز ہوتا ہے، اور غیر مرد پر وہ عورت حرام ہو جاتی ہے جب تک کہ یہ عقد قائم رہے۔
اس حدیث میں نکاح و شادی کرنے کی ترغیب ہے اور جو شخص استطاعت و قدرت رکھنے کے باوجود شادی نہ کرے اس کے لئے سخت وعید ہے: «ليس منا» یعنی وہ شخص ہم میں سے نہیں، یعنی مسلمانوں میں سے نہیں ہے، تو کیا ایسا شخص خارج عن الملۃ ہے؟ اس بارے میں کلام ہے اور صحیح یہ ہے کہ وہ ملتِ اسلام سے خارج تو نہ ہوگا لیکن یہ مسلمانوں کا شیوہ نہیں، اسی طرح حدیث «فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِيْ فَلَيْسَ مِنِّيْ» ہے جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔
نکاح لغت میں جماع کو کہتے ہیں اور شرعی اصطلاح میں یہ عبارت ہے اس عقد سے جس سے مرد عورت کا مالک بن جاتا ہے، اور عورت سے ہر طرح کا استمتاع جائز ہوتا ہے، اور غیر مرد پر وہ عورت حرام ہو جاتی ہے جب تک کہ یہ عقد قائم رہے۔
اس حدیث میں نکاح و شادی کرنے کی ترغیب ہے اور جو شخص استطاعت و قدرت رکھنے کے باوجود شادی نہ کرے اس کے لئے سخت وعید ہے: «ليس منا» یعنی وہ شخص ہم میں سے نہیں، یعنی مسلمانوں میں سے نہیں ہے، تو کیا ایسا شخص خارج عن الملۃ ہے؟ اس بارے میں کلام ہے اور صحیح یہ ہے کہ وہ ملتِ اسلام سے خارج تو نہ ہوگا لیکن یہ مسلمانوں کا شیوہ نہیں، اسی طرح حدیث «فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِيْ فَلَيْسَ مِنِّيْ» ہے جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔