حدیث نمبر: 2168
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، حَدَّثَنِي جَابِرٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَبَنٍ، فَقَالَ: "أَلَا خَمَّرْتَهُ وَلَوْ تَعْرِضُ عَلَيْهِ عُودًا ؟".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوحمید الساعدی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ لے کر حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس (برتن) کو ڈھانپ کر کیوں نہیں لائے؟ اس کے اوپر عرض میں ایک لکڑی ہی رکھ دیتے۔“
حدیث نمبر: 2169
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: "أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَغْطِيَةِ الْوَضُوءِ، وَإِيكَاءِ السِّقَاءِ، وَإِكْفَاءِ الْإِنَاءِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی ڈھکنے، اور مشک کو ڈاٹ لگا دینے، اور برتن کو الٹ کر رکھنے کا حکم دیا۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 2167 سے 2169)
ان احادیث سے پانی کے برتن کو ڈھانپ کر رکھنے، اور مشک کو ڈاٹ لگا کر رکھنے، اور برتن کو الٹ کر رکھنے کا حکم معلوم ہوا، اس کے بہت سے فوائد ہیں: کوڑے کرکٹ، حشرات و کیڑے مکوڑوں سے، نیز آسمانی وباء و بلا سے حفاظت ہو جاتی ہے۔
ایک حدیث میں ہے کہ دروازے بند رکھو، چراغ بجھا دو کیونکہ شیطان نہ بند دروازہ کھولتا ہے، نہ ڈھکے ہوئے برتن کو کھولتا ہے، اور اگر ڈھکنے کے لئے کوئی چیز نہ ملے تو الله کا نام لے کر اس پر لکڑی کو آڑا کر کے رکھ دے، یہ سب اسلامی آداب ہیں جو باعثِ خیر و برکت ہیں۔
ان احادیث سے پانی کے برتن کو ڈھانپ کر رکھنے، اور مشک کو ڈاٹ لگا کر رکھنے، اور برتن کو الٹ کر رکھنے کا حکم معلوم ہوا، اس کے بہت سے فوائد ہیں: کوڑے کرکٹ، حشرات و کیڑے مکوڑوں سے، نیز آسمانی وباء و بلا سے حفاظت ہو جاتی ہے۔
ایک حدیث میں ہے کہ دروازے بند رکھو، چراغ بجھا دو کیونکہ شیطان نہ بند دروازہ کھولتا ہے، نہ ڈھکے ہوئے برتن کو کھولتا ہے، اور اگر ڈھکنے کے لئے کوئی چیز نہ ملے تو الله کا نام لے کر اس پر لکڑی کو آڑا کر کے رکھ دے، یہ سب اسلامی آداب ہیں جو باعثِ خیر و برکت ہیں۔