حدیث نمبر: 2158
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ عِيسَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ حَبِيبٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ مَرْوَانَ فَجَاءَ أَبُو سَعِيدٍ فَقَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَا أَرْوَى مِنْ نَفَسٍ وَاحِدٍ ؟ قَالَ: "فَأَبِنْ الْإِنَاءَ عَنْ فِيكَ، ثُمَّ تَنَفَّسْ". قَالَ: إِنِّي أَرَى الْقَذَاةَ ؟ قَالَ: "أَهْرِقْهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوالمثنی نے کہا: میں مروان کے پاس تھا کہ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور بیان کیا کہ ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں ایک سانس میں سیر نہیں ہوتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تب پھر پیالے کو اپنے منہ سے ہٹاؤ اور پھر سانس لے لو“، عرض کیا: میں اس میں کوڑا دیکھوں تو؟ فرمایا: ”اسے بہا دو۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 2157)
ظاہراً اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایک سانس میں پانی پی سکتے ہیں، نیز یہ کہ سانس لیتے وقت برتن منہ سے دور رکھنا چاہیے۔
ظاہراً اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایک سانس میں پانی پی سکتے ہیں، نیز یہ کہ سانس لیتے وقت برتن منہ سے دور رکھنا چاہیے۔
حدیث نمبر: 2159
أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: "إِذَا بَالَ أَحَدُكُمْ، فَلَا يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ، وَلَا يَسْتَنْجِي بِيَمِينِهِ، وَلَا يَتَنَفَّسْ فِي الْإِنَاءِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوقتاده رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب تم میں کوئی شخص پیشاب کرے تو داہنے ہاتھ سے عضو مخصوص کو نہ پکڑے، اور نہ داہنے ہاتھ سے استنجاء کرے، اور نہ برتن میں سانس لے۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 2158)
اس حدیث سے تین باتیں معلوم ہوئیں: نہ داہنے ہاتھ سے شرمگاہ کو چھونا جائز ہے، اور نہ داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنا درست ہے، اور نہ ہی برتن میں سانس لینا صحیح ہے۔
یہ سارے امور آدابِ طہارت کے خلاف ہیں۔
داہنا ہاتھ اچھی چیزوں اور کھانے پینے کے استعمال کے لئے ہے اور طہارت کے لئے بایاں ہاتھ ہے۔
اس حدیث سے تین باتیں معلوم ہوئیں: نہ داہنے ہاتھ سے شرمگاہ کو چھونا جائز ہے، اور نہ داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنا درست ہے، اور نہ ہی برتن میں سانس لینا صحیح ہے۔
یہ سارے امور آدابِ طہارت کے خلاف ہیں۔
داہنا ہاتھ اچھی چیزوں اور کھانے پینے کے استعمال کے لئے ہے اور طہارت کے لئے بایاں ہاتھ ہے۔