حدیث نمبر: 2154
أَخْبَرَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "نَهَى أَنْ يُشْرَبَ مِنْ فِي السِّقَاءِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک کے منہ سے (منہ لگا کر) پینے سے منع فرمایا۔
حدیث نمبر: 2155
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: "نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُشْرَبَ مِنْ فِي السِّقَاءِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک کے منہ سے لگ کر پینے سے منع فرمایا۔
حدیث نمبر: 2156
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "نَهَى عَنْ اخْتِنَاثِ الْأَسْقِيَةِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکوں کے اختناث سے منع فرمایا۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 2153 سے 2156)
بخاری شریف میں ہے کہ معمر یا کسی اور نے کہا: اختناث: مشک سے منہ لگا کر پانی پینے کو کہتے ہیں۔
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ مشک سے منہ لگا کر پانی پینا درست نہیں خواہ حکمت کچھ بھی ہو، ایک روایت میں ہے کہ ایک شخص نے مشک سے منہ لگا کر پانی پیا تو سانپ کا بچہ پیٹ میں چلا گیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک سے منہ لگا کر پانی پینے سے سختی سے منع کر دیا، نیز یہ کہ اس طرح پانی پینے سے پھندا یا گٹا لگ جانے کا بھی اندیشہ ہے، اسی لئے پانی پینے کے آداب میں سے یہ ہے کہ آدمی بیٹھ کر پیالے یا گلاس سے تین بار سانس لے کر پانی پئے۔
واللہ اعلم۔
بخاری شریف میں ہے کہ معمر یا کسی اور نے کہا: اختناث: مشک سے منہ لگا کر پانی پینے کو کہتے ہیں۔
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ مشک سے منہ لگا کر پانی پینا درست نہیں خواہ حکمت کچھ بھی ہو، ایک روایت میں ہے کہ ایک شخص نے مشک سے منہ لگا کر پانی پیا تو سانپ کا بچہ پیٹ میں چلا گیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک سے منہ لگا کر پانی پینے سے سختی سے منع کر دیا، نیز یہ کہ اس طرح پانی پینے سے پھندا یا گٹا لگ جانے کا بھی اندیشہ ہے، اسی لئے پانی پینے کے آداب میں سے یہ ہے کہ آدمی بیٹھ کر پیالے یا گلاس سے تین بار سانس لے کر پانی پئے۔
واللہ اعلم۔