حدیث نمبر: 2143
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زانی مومن رہتے ہوئے زنا نہیں کر سکتا، چوری کرنے والا مومن رہتے ہوئے چوری نہیں کر سکتا، اور نہ شراب پیتے ہوئے جب وہ شراب پیتا ہے مومن رہتا ہے۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 2142)
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ مذکورہ بالا گناہوں کے ارتکاب کے وقت آدمی مومن نہیں رہتا ہے، ایمان اس کے دل سے نکل جاتا ہے، لہٰذا زنا کار، چوری کرنے اور شراب پینے والا اگر مدعیٔ اسلام ہے تو وہ اپنے دعوے میں جھوٹا ہوگا، مسلمان صاحبِ ایمان ایسا کام کر ہی نہیں سکتا، بلکہ اگر کبھی اس سے گناہِ کبیرہ سرزد ہو بھی جائے تو حد درجہ پشیماں ہو کر پھر ہمیشہ کے لئے تائب ہو جاتا ہے اور اپنے گناہ کے لئے استغفار میں منہمک رہتا ہے۔
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ مذکورہ بالا گناہوں کے ارتکاب کے وقت آدمی مومن نہیں رہتا ہے، ایمان اس کے دل سے نکل جاتا ہے، لہٰذا زنا کار، چوری کرنے اور شراب پینے والا اگر مدعیٔ اسلام ہے تو وہ اپنے دعوے میں جھوٹا ہوگا، مسلمان صاحبِ ایمان ایسا کام کر ہی نہیں سکتا، بلکہ اگر کبھی اس سے گناہِ کبیرہ سرزد ہو بھی جائے تو حد درجہ پشیماں ہو کر پھر ہمیشہ کے لئے تائب ہو جاتا ہے اور اپنے گناہ کے لئے استغفار میں منہمک رہتا ہے۔