حدیث نمبر: 2130
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،، قَالَ: "لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ وَلَدُ زِنْيَةٍ، وَلَا مَنَّانٌ، وَلَا عَاقٌّ، وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زنا سے پیدا ہونے والا بچہ، احسان کر کے جتانے والا، ماں باپ کا نافرمان اور ہمیشہ شراب پینے والا جنت میں داخل نہ ہو سکے گا۔“
حدیث نمبر: 2131
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ نُبَيْطِ بْنِ شَرِيطٍ، عَنْ جَابَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَاقٌّ، وَلَا مَنَّانٌ، وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: ”جنت میں نہیں جائے گا، ماں باپ کا نافرمان، احسان جتانے والا اور ہمیشہ شراب پینے والا (عادی شرابی)۔“
وضاحت:
(تشریح احادیث 2129 سے 2131)
اس حدیث کی تخزیج اوپر گذر چکی ہے، اور ان احادیث سے معلوم ہوا کہ یہ تین قسم کے لوگ جہنم میں جائیں گے اور جنّت میں داخل نہ ہو سکیں گے۔
لہٰذا احسان جتانے، ماں باپ کی نافرمانی اور شراب نوشی سے بچنا ضروری ہے۔
دورِ حاضر میں یہ اخلاقی امراض بہت بڑھ گئے ہیں، ماں باپ کی نافرمانی عام ہے، لوگ تھوڑا سا احسان کر کے بہت احسان جتاتے ہیں، اور آج کل شراب نوشی بھی عام ہوتی جا رہی ہے، ایسے لوگوں کو اللہ سے ڈرنا چاہے اور مذکورہ بالا حدیث پر غور کر کے، ان برے افعال سے توبہ کر کے ان سے دور رہنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ عام مسلمانوں کو اس کی توفیق بخشے۔
آمین۔
اس حدیث کی تخزیج اوپر گذر چکی ہے، اور ان احادیث سے معلوم ہوا کہ یہ تین قسم کے لوگ جہنم میں جائیں گے اور جنّت میں داخل نہ ہو سکیں گے۔
لہٰذا احسان جتانے، ماں باپ کی نافرمانی اور شراب نوشی سے بچنا ضروری ہے۔
دورِ حاضر میں یہ اخلاقی امراض بہت بڑھ گئے ہیں، ماں باپ کی نافرمانی عام ہے، لوگ تھوڑا سا احسان کر کے بہت احسان جتاتے ہیں، اور آج کل شراب نوشی بھی عام ہوتی جا رہی ہے، ایسے لوگوں کو اللہ سے ڈرنا چاہے اور مذکورہ بالا حدیث پر غور کر کے، ان برے افعال سے توبہ کر کے ان سے دور رہنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ عام مسلمانوں کو اس کی توفیق بخشے۔
آمین۔