حدیث نمبر: 2124
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ الْحِمْيَرِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَعْدٍ الْخَيْرُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ أَكَلَ، فَلْيَتَخَلَّلْ، فَمَا تَخَلَّلَ، فَلْيَلْفِظْهُ، وَمَا لَاكَ بِلِسَانِهِ، فَلْيَبْتَلِعْ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کھانا کھائے تو خلال کر لے، اور جو خلال سے نکلے اس کو تھوک دے، اور جو اس کی زبان سے لگا رہے اس کو نگل جائے۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 2123)
اس حدیث سے کھانے کے بعد تنکے سے دانتوں کا خلال کرنا، اور جو کچھ دانتوں کے بیچ پھنس جائے اس کو نکال دینا ثابت ہوا، اور یہ حفظانِ صحت کے اصولوں میں سے ہے۔
سبحان الله! شریعتِ اسلام میں کوئی چیز تشنہ نہیں، ہر چیز اور ہر قسم کے مسائل اس میں موجود ہیں۔
اس حدیث سے کھانے کے بعد تنکے سے دانتوں کا خلال کرنا، اور جو کچھ دانتوں کے بیچ پھنس جائے اس کو نکال دینا ثابت ہوا، اور یہ حفظانِ صحت کے اصولوں میں سے ہے۔
سبحان الله! شریعتِ اسلام میں کوئی چیز تشنہ نہیں، ہر چیز اور ہر قسم کے مسائل اس میں موجود ہیں۔