کتب حدیثسنن دارميابوابباب: اس کا بیان کہ چوہیا گھی میں گر کر مر جائے تو کیا کریں ؟
حدیث نمبر: 2120
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ فَأْرَةٍ وَقَعَتْ فِي السَمْنٍ فَقَالَ: "أَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا، وَكُلُوا" .
محمد الیاس بن عبدالقادر
ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے چوہیا کے بارے میں پوچھا گیا جو گھی میں گر گئی ہو، فرمایا: ”اس کو نکال دو اور اس کے آس پاس کے گھی کو نکال پھینکو اور (باقی بچا گھی) کھا لو۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 2119)
یہ حکم ایسی صورت میں ہے جب کہ گھی جما ہوا ہو کیونکہ اس کی تاثیر سارے گھی میں نہ پہنچے گی، پگھلا ہوا گھی سب ہی پھینک دینا بہتر ہے۔
واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الاطعمة / حدیث: 2120
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2128]» ¤ اس روایت کی سند صحیح اور حدیث بھی صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 235] ، [أبوداؤد 3841] ، [ترمذي 1798] ، [نسائي 4269]
حدیث نمبر: 2121
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ، بِإِسْنَادِهِ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
محمد بن يوسف، ابن عینیہ سے اسی سند سے بیان کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الاطعمة / حدیث: 2121
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2129]» ¤ تخریج اوپر گذر چکی ہے۔
حدیث نمبر: 2122
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَأْرَةٍ وَقَعَتْ فِي سَمْنٍ فَمَاتَتْ، فَقَالَ: "خُذُوهَا وَمَا حَوْلَهَا فَاطْرَحُوهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: چوہیا گھی میں گر کر مر جائے (تو کیا کیا جائے؟)، فرمایا: ”اس کو اور آس پاس کے گھی کو نکال پھینکو۔“
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الاطعمة / حدیث: 2122
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده قوي
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده قوي، [مكتبه الشامله نمبر: 2130]» ¤ اس روایت کی سند قوی ہے اور پیچھے (761) میں گذرچکی ہے۔ نیز دیکھئے: [مسند الحميدي 314]
حدیث نمبر: 2123
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ . قَالَ أَبُو مُحَمَّد: إِذَا كَانَ ذَائِبًا أُهَرِيقَ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
اس سند سے بھی سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے مثل سابق مروی ہے۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر گھی پگھلا ہوا ہو تو سب پھینک دیا جائے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 2120 سے 2123)
ان تمام احادیث و روایات سے معلوم ہوا کہ اگر گھی میں چوہیا گر کر مر جائے تو اگر جما ہوا گھی ہو تو آس پاس کا گھی پھینک کر باقی گھی کھایا جا سکتا ہے اگر وہ متاثر نہ ہوا ہو، پگھلا ہوا گھی سب کا سب پھینک دینا چاہیے کیونکہ اس سے صحتِ انسان کو ضرر کا اندیشہ ہے۔
واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الاطعمة / حدیث: 2123
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2131]» ¤ اس حدیث کی تخریج اوپر گذر چکی ہے۔