حدیث نمبر: 2113
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحُوَيْرِثِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْبِرَازِ فَقُدِّمَ إِلَيْهِ طَعَامٌ، فَقِيلَ لَهُ: أَلَا تَوَضَّأُ؟ قَالَ: فَقَالَ: "أُصَلِّي فَأَتَوَضَّأُ؟" . قَالَ أَبُو مُحَمَّد: إِنَّمَا هُوَ سَعِيدُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ .
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء سے نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا، اور عرض کیا گیا: آپ وضونہیں کریں گے؟ راوی نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں نماز پڑھوں گا جو وضو کروں؟“ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: سند میں مذکور راوی سعید بن الحويرث ہیں۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 2112)
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ مجھے نماز تھوڑے ہی پڑھنی ہے جو اس کے لئے وضوء کروں، لہٰذا معلوم ہوا کہ بلا وضو کھانا پینا درست ہے، ہاں منہ ہاتھ دھو لینے میں کوئی حرج نہیں بلکہ کھانے سے پہلے ہاتھ دھونا سنّت ہے۔
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ مجھے نماز تھوڑے ہی پڑھنی ہے جو اس کے لئے وضوء کروں، لہٰذا معلوم ہوا کہ بلا وضو کھانا پینا درست ہے، ہاں منہ ہاتھ دھو لینے میں کوئی حرج نہیں بلکہ کھانے سے پہلے ہاتھ دھونا سنّت ہے۔
حدیث نمبر: 2114
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ . قَالَ: وَسَمِعْتُ أَبَا عَاصِمٍ يُحَدِّثُ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، بِإِسْنَادِهِ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابونعیم اور ابوعاصم نے بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسے ہی روایت کیا ہے۔