کتب حدیثسنن دارميابوابباب: مرغی کھانے کا بیان
حدیث نمبر: 2092
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ الْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى فَقُدِّمَ طَعَامُهُ، فَقُدِّمَ فِي طَعَامِهِ لَحْمُ دَجَاجٍ، وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ أَحْمَرُ، فَلَمْ يَدْنُ، فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى: "ادْنُ، فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مِنْهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
زہدم الجرمی نے کہا: ہم سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے کہ ان کا کھانا پیش کیا گیا جس میں مرغی کا گوشت تھا۔ حاضرین میں سے ایک شخص سرخ بنوتیم اللہ میں سے بھی تھا وہ قریب نہ آیا، سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: قریب آ جاؤ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کھاتے دیکھا ہے۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 2091)
یہ حدیث متفق علیہ ہے جس سے ثابت ہوا کہ مرغی کھانا جائز ہے کیونکہ اس کی کل غذا نجاست نہیں ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود مرغی کا گوشت تناول فرمایا ہے۔
بخاری شریف میں یہ حدیث اور تفصیل سے ہے۔
بنو تیم اللہ کے اس سرخ و سفید شخص نے کہا: میں نے دیکھا کہ مرغی گندگی کھا رہی تھی تو قسم کھا لی کہ مرغی نہ کھاؤں گا۔
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم توڑ دو اور کھا لو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قسم بھی توڑتے دیکھا ہے۔
«(أو كما قال)» ۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الاطعمة / حدیث: 2092
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2099]» ¤ دیکھئے: [بخاري 5518] ، [مسلم 1649] ، [ترمذي 1826] ، [نسائي 4357] ، [ابن حبان 5222] ، [الحميدي 783، 784]
حدیث نمبر: 2093
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّهُ ذَكَرَ الدَّجَاجَ، فَقَالَ: "رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے مرغی کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مرغی کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الاطعمة / حدیث: 2093
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2100]» ¤ اس حدیث کی تخریج و تشریح گذر چکی ہے جس سے مرغی حلال اور اس کا کھانا جائز ہوا گرچہ وہ نجاست بھی کھا لیتی ہے لیکن دوسری پاک چیز میں بھی کھاتی ہے اس لئے اس کا گوشت کھانا درست ہے، البتہ جو مرغی نری نجاست ہی کھائے اس کو کھانے میں اختلاف ہے۔ موجودہ دور میں فارم کی مرغیوں کو اچھا صاف ستھرا دانہ پانی کھلایا جاتا ہے اس لئے مرغا مرغی کھانے میں کوئی قباحت نہیں۔ واللہ اعلم۔