کتب حدیث ›
سنن دارمي › ابواب
› باب: کناروں سے کھانے سے پہلے ثرید کو بیچ میں سے کھانے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 2083
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِجَفْنَةٍ، أَوْ قَالَ: قَصْعَةٍ مِنْ ثَرِيدٍ فَقَالَ: "كُلُوا مِنْ حَافَاتِهَا أَوْ قَالَ: جَوَانِبِهَا وَلَا تَأْكُلُوا مِنْ وَسَطِهَا، فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ فِي وَسَطِهَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ثرید سے بھرا ہوا ایک پیالہ (تھالی) لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے کناروں سے کھاؤ، بیچ سے نہ کھاؤ کیونکہ برکت بیچ میں نازل ہوتی ہے۔“
وضاحت:
(تشریح احادیث 2081 سے 2083)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اکٹھے ایک جگہ بیٹھ کر کھانا چاہیے، اپنے سامنے اور کنارے سے کھانا کھانا آدابِ طعام میں سے ہے، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہدیہ، تحفہ کو قبول کرنے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تواضع اور خوش خلقی ثابت ہوئی، اور یہ کہ اسلامی آدابِ طعام کی رعایت کی جائے تو کھانے میں برکتیں نازل ہوتی ہیں۔
واللہ اعلم۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اکٹھے ایک جگہ بیٹھ کر کھانا چاہیے، اپنے سامنے اور کنارے سے کھانا کھانا آدابِ طعام میں سے ہے، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہدیہ، تحفہ کو قبول کرنے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تواضع اور خوش خلقی ثابت ہوئی، اور یہ کہ اسلامی آدابِ طعام کی رعایت کی جائے تو کھانے میں برکتیں نازل ہوتی ہیں۔
واللہ اعلم۔