حدیث نمبر: 2031
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: "أَكَلْنَا لَحْمَ فَرَسٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ہم نے مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں گھوڑے کا گوشت کھایا۔
حدیث نمبر: 2032
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: "نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ، وَأَذِنَ فِي لُحُومِ الْخَيْلِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن پالتو گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا، اور گھوڑے کے گوشت (کو کھانے) کی اجازت دی۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 2030 سے 2032)
گھوڑے کا گوشت بلا کراہت جائز و حلال ہے مگر کیونکہ جہاد و سواری کے لئے اس کی ضرورت پڑتی تھی اس لئے اس کو کھانے کا عام معمول نہیں تھا، بعض فقہاء نے اس کو حرام اور بعض نے مکروہ کہا ہے لیکن راجح یہی ہے کہ گھوڑے کا گوشت حلال ہے جیسا کہ مذکورہ احادیث سے واضح ہے۔
واللہ اعلم۔
گھوڑے کا گوشت بلا کراہت جائز و حلال ہے مگر کیونکہ جہاد و سواری کے لئے اس کی ضرورت پڑتی تھی اس لئے اس کو کھانے کا عام معمول نہیں تھا، بعض فقہاء نے اس کو حرام اور بعض نے مکروہ کہا ہے لیکن راجح یہی ہے کہ گھوڑے کا گوشت حلال ہے جیسا کہ مذکورہ احادیث سے واضح ہے۔
واللہ اعلم۔