حدیث نمبر: 2029
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ الْحَسَنِ، وَعَبْدِ اللَّهِ ابْنَيْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِمَا، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّ عَلِيًّا قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: "نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ خَيْبَرَ، وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن عورتوں کے متعہ سے اور پالتو گدھوں کے گوشت (کھانے) سے منع فرمایا۔
حدیث نمبر: 2030
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَامَ رَجُلٌ يَوْمَ خَيْبَرَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُكِلَتْ الْحُمُرُ أَوْ أُفْنِيَتِ الْحُمُرُ، ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُفْنِيَتِ الْحُمُرُ أَوْ أُكِلَتْ الْحُمُرُ،"فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا فَنَادَى إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ، فَإِنَّهَا رِجْسٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ خیبر کے دن ایک صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ ! گدھے کھا لئے گئے، یا یہ کہا: گدھے (کھا کر) ختم کر دیئے گئے، پھر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! گدھے ختم کر دیئے گئے، یا کھا لئے گئے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو حکم دیا کہ اعلان کر دو: ”بیشک اللہ اور اس کا رسول دونوں تم کو پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کرتے ہیں کیونکہ وہ ناپاک ہیں۔“
وضاحت:
(تشریح احادیث 2028 سے 2030)
ان احادیث سے متعہ اور گدھے کے گوشت کی حرمت ثابت ہوئی۔
نکاحِ متعہ یہ ہے کہ آدمی ایک وقتِ مقررہ تک کے لئے نکاح کر لے، جیسے ہفتہ، دس دن، ایک ماہ یا سال کے لئے، یہ شروع اسلام میں حلال تھا پھر قیامت تک کے لئے حرام قرار دیا گیا، آگے مزید تفصیل آ رہی ہے۔
اسی طرح گدھے کا گوشت حلال تھا، پھر قیامت تک کے لئے اس کا کھانا حرام کر دیا گیا۔
ان دونوں چیزوں میں جو لوگ حلت کے قائل ہیں ان کا استدلال صحیح نہیں اور حرمت کی دلیل واضح، صریح اور قوی ہے۔
واللہ اعلم۔
ان احادیث سے متعہ اور گدھے کے گوشت کی حرمت ثابت ہوئی۔
نکاحِ متعہ یہ ہے کہ آدمی ایک وقتِ مقررہ تک کے لئے نکاح کر لے، جیسے ہفتہ، دس دن، ایک ماہ یا سال کے لئے، یہ شروع اسلام میں حلال تھا پھر قیامت تک کے لئے حرام قرار دیا گیا، آگے مزید تفصیل آ رہی ہے۔
اسی طرح گدھے کا گوشت حلال تھا، پھر قیامت تک کے لئے اس کا کھانا حرام کر دیا گیا۔
ان دونوں چیزوں میں جو لوگ حلت کے قائل ہیں ان کا استدلال صحیح نہیں اور حرمت کی دلیل واضح، صریح اور قوی ہے۔
واللہ اعلم۔