حدیث نمبر: 2024
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ الْأَسْقِيَةِ، فَقَالَ: مَا أَدْرِي مَا أَقُولُ لَكَ، غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "أَيُّمَا إِهَابٍ دُبِغَ فَقَدْ طَهُرَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عبدالرحمٰن بن وعلۃ نے کہا: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے چمڑے کی مشک (جس میں پانی بھرا جاتا ہے) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: میری سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ تمہیں کیا جواب دوں سوائے اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو بھی کھال دباغت دی جائے وہ پاک ہو گئی۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 2023)
ماکول اللحم جانور کی کھال نمک، درخت کے پتوں وغیرہ سے صاف کی جائے تو وہ پاک ہو جاتی ہے اور اس سے انتفاع جائز ہے خواہ وہ جانور مردہ ہی کیوں نہ ہو، جیسا کہ آگے حدیث میں آ رہا ہے۔
اس حدیث میں «أَيُّمَا إِهَابٍ» عام ہے، یعنی جو چمڑا بھی دباغت دیا جائے وہ پاک ہو جاتا ہے، اس عموم سے علماء نے استدلال کیا کہ کسی بھی جانور کا چمڑا ہو۔
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے سور اور امام شافعی رحمہ اللہ نے کتے اور سور کے چمڑے کے بارے میں کہا: وہ کسی صورت میں جائز و پاک نہیں ہوگا۔
اسی طرح آدمی کا چمڑا بھی دباغت سے پاک اور قابلِ استعمال نہ ہوگا۔
سور اور کتا ناپاک و نجس ہونے کے سبب اور آدمی کی کھال آدمی کے معظم و مکرم ہونے کے سبب قابلِ انتفاع نہیں۔
واللہ اعلم۔
ماکول اللحم جانور کی کھال نمک، درخت کے پتوں وغیرہ سے صاف کی جائے تو وہ پاک ہو جاتی ہے اور اس سے انتفاع جائز ہے خواہ وہ جانور مردہ ہی کیوں نہ ہو، جیسا کہ آگے حدیث میں آ رہا ہے۔
اس حدیث میں «أَيُّمَا إِهَابٍ» عام ہے، یعنی جو چمڑا بھی دباغت دیا جائے وہ پاک ہو جاتا ہے، اس عموم سے علماء نے استدلال کیا کہ کسی بھی جانور کا چمڑا ہو۔
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے سور اور امام شافعی رحمہ اللہ نے کتے اور سور کے چمڑے کے بارے میں کہا: وہ کسی صورت میں جائز و پاک نہیں ہوگا۔
اسی طرح آدمی کا چمڑا بھی دباغت سے پاک اور قابلِ استعمال نہ ہوگا۔
سور اور کتا ناپاک و نجس ہونے کے سبب اور آدمی کی کھال آدمی کے معظم و مکرم ہونے کے سبب قابلِ انتفاع نہیں۔
واللہ اعلم۔
حدیث نمبر: 2025
حَدَّثَنَا يَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ جُلُودِ الْمَيْتَةِ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "دِبَاغُهَا طَهُورُهَا" . قِيلَ لِأَبِي مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللَّهِ: تَقُولُ بِهَذَا ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِذَا كَانَ يُؤْكَلُ لَحْمُهُ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
عبدالرحمٰن بن وعلہ نے کہا: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مردہ جانور کی کھال کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”دباغت سے وہ پاک ہو جاتی ہیں۔“ امام دارمی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: کیا آپ بھی یہی کہتے ہیں؟ فرمایا: ہاں، اس جانور کی کھال استعمال کی جا سکتی ہے (جو ماکول اللحم ہو)۔
حدیث نمبر: 2026
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: "أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُسْتَمْتَعَ بِجُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَتْ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردہ جانور کی کھال سے انتفاع کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 2027
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَاتَتْ شَاةٌ لِمَيْمُونَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَوْ اسْتَمْتَعْتُمْ بِإِهَابِهَا؟"قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا مَيْتَةٌ، قَالَ: "إِنَّمَا حُرِّمَ أَكْلُهَا" .
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ان کی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی بکری مر گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کاش تم اس کی کھال سے فائدہ اٹھاتے؟“ لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ تو مردہ تھی؟ فرمایا: ”مردار کا فقط کھانا حرام ہے۔“
وضاحت:
(تشریح احادیث 2024 سے 2027)
یعنی مردار کا گوشت کھانا حرام ہے لیکن دباغت کے بعد چمڑا و جلد سے انتفاع جائز ہے۔
یعنی مردار کا گوشت کھانا حرام ہے لیکن دباغت کے بعد چمڑا و جلد سے انتفاع جائز ہے۔
حدیث نمبر: 2028
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ . قِيلَ لِأَبِي مُحَمَّدٍ: مَا تَقُولُ فِي الثَّعَالِبِ إِذَا دُبِغَتْ؟ قَالَ: أَكْرَهُهَا.
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کے ہم معنی روایت کیا ہے۔ امام دارمی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: لومڑیوں کی کھال کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جبکہ اس کو دباغت دے دی گئی ہو؟ فرمایا: میں اس کو مکروہ سمجھتا ہوں (کیونکہ لومڑی غیر ماکول اللحم ہے، اس کا کھانا جائز نہیں)۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 2027)
ان احادیثِ صحیحہ سے ثابت ہوا کہ مردہ جانور کی کھال ان کے مرنے کے بعد بھی نکال کر دباغت کے بعد کام میں لائی جا سکتی ہے۔
بہتر یہی ہے کہ وہ ماکول اللحم جانور کی ہو۔
(واللہ اعلم)۔
ان احادیثِ صحیحہ سے ثابت ہوا کہ مردہ جانور کی کھال ان کے مرنے کے بعد بھی نکال کر دباغت کے بعد کام میں لائی جا سکتی ہے۔
بہتر یہی ہے کہ وہ ماکول اللحم جانور کی ہو۔
(واللہ اعلم)۔