حدیث نمبر: 2022
أَخْبَرَنَا يَعْمَرُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "نَهَى عَنْ جُلُودِ السِّبَاعِ أَنْ تُفْتَرَشَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوملیح نے اپنے والد سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کی کھالوں کو بچھانے سے منع فرمایا۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 2021)
جب درندوں کی کھال کو بچھانا ممنوع ہوا تو پہننا بدرجۂ اولی ممنوع ہوگا۔
نسائی شریف میں پہننے اور بچھانے دونوں کی ممانعت ہے۔
جب درندوں کی کھال کو بچھانا ممنوع ہوا تو پہننا بدرجۂ اولی ممنوع ہوگا۔
نسائی شریف میں پہننے اور بچھانے دونوں کی ممانعت ہے۔
حدیث نمبر: 2023
أَخْبَرَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدٍ عن قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوملیح نے اپنے والد سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 2022)
ان روایات سے درندوں کی کھال بچھانے اور پہننے کی ممانعت ثابت ہوئی کیونکہ دنیا داروں میں ان کا بچھانا اور پہننا باعثِ نخوت و تکبر ہوتا ہے، (وحیدی)۔
ابوداؤد کی ایک روایت (4128) میں ہے: جن لوگوں کے پاس چیتے کی کھال ہو ان سے فرشتے جدا ہو جاتے ہیں۔
اس لئے شیر چیتے کی کھالوں پر بیٹھنا جائز نہیں۔
ان روایات سے درندوں کی کھال بچھانے اور پہننے کی ممانعت ثابت ہوئی کیونکہ دنیا داروں میں ان کا بچھانا اور پہننا باعثِ نخوت و تکبر ہوتا ہے، (وحیدی)۔
ابوداؤد کی ایک روایت (4128) میں ہے: جن لوگوں کے پاس چیتے کی کھال ہو ان سے فرشتے جدا ہو جاتے ہیں۔
اس لئے شیر چیتے کی کھالوں پر بیٹھنا جائز نہیں۔