کتب حدیثسنن دارميابوابباب: درندے کھانے جائز نہیں ہیں
حدیث نمبر: 2019
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، قَالَ: "نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر دانت (کیلے) والے درندے کے کھانے سے منع فرمایا ہے۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 2018)
ذی ناب سے مراد ایسے دانت ہیں جن سے درندہ جانور یا پرندہ اپنے شکار کو زخمی کر کے پھاڑ دیتا ہے۔
(راز)۔
اکثر اہلِ حدیث اور ائمہ کا یہی قول ہے کہ ہر دانت (کیلے) والا درندہ جو دانت سے شکار پکڑتا ہے اور حملہ کرتا ہے حرام ہے، جیسے: بھیڑیا، شیر، کتا، چیتا، اور ریچھ، بلی وغیرہ۔
اور امام شافعی رحمہ اللہ نے کہا: کفتار (لکڑ بگڑ) اور لومڑی حلال ہے۔
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے کہا: درندوں کی طرح یہ بھی حرام ہیں، اسی طرح گیڈر اور بوربچہ وغیرہ (بھی حرام ہے)، (وحیدی)۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الاضاحي / حدیث: 2019
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده قوي
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده قوي، [مكتبه الشامله نمبر: 2023]» ¤ اس روایت کی سند قوی اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5530] ، [مسلم 1932] ، [أبوداؤد 3802] ، [ترمذي 1477] ، [نسائي 4336] ، [ابن ماجه 3232] ، [ابن حبان 5279] ، [مسند الحميدي 899] ، [طبراني 208/22] ، [بيهقي معرفة السنن والآثار 19198]
حدیث نمبر: 2020
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ابْنُ عَمِّ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، قَالَ: "نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْخَطْفَةِ، وَالْمُجَثَّمَةِ، وَالنُّهْبَةِ، وَعَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (شکار) اُچکن والے جانور، اور جانور کو باندھ کر مارنے سے، اور لوٹ مار سے، اور دانت والے درندے کے کھانے سے منع فرمایا ہے۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 2019)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ چوری، ڈکیتی، لوٹ مار کا مال کھانا حرام ہے، اور یہ تمام افعال بہت مذموم ہیں، اور اسلام میں اس کی بڑی سخت سزا ہے۔
چور کے ہاتھ پیر کاٹ دیئے جائیں، ڈاکوؤں اور رہزنوں کے لئے اور بھی سنگین سزائیں مقرر کی گئی ہیں تاکہ نوع انسانی امن و امان کی زندگی بسر کر سکے۔
انہیں قوانین کی برکت سے سعودیہ میں امن و امان قائم ہے جو ساری دنیا کے لئے مثالی حیثیت رکھتا ہے۔
مجثمہ کا ذکر گذر چکا ہے اور وہ بھی کھانا حرام ہے، اسی طرح درندوں کا گوشت بھی حرام ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الاضاحي / حدیث: 2020
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده حسن
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 2024]» ¤ اس حدیث کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [طبراني 209/22] ، [بيهقي 334/9] ۔ ابواویس کا نام اس سند میں عبداللہ بن عبداللہ بن اویس ہے۔
حدیث نمبر: 2021
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: "نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ، وَكُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنْ الطَّيْرِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر دانت والے درندے اور ہر پنجے (سے شکار کرنے) والے درندے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا (یعنی جو پنجے سے شکار کرے جیسے باز، شکرہ، بحری گدھ وغیرہ اور اس میں چیل و گدھ بھی شامل ہیں)۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 2020)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جو پرندے پنجے سے شکار کرتے ہیں یا وہ درندے جو دانتوں سے گوشت پھاڑ ڈالتے ہیں ان کا کھانا حرام ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الاضاحي / حدیث: 2021
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2025]» ¤ اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1934] ، [أبوداؤد 3803] ، [نسائي 4359] ، [أبويعلی 2414] ، [ابن حبان 5280]