حدیث نمبر: 1980
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الضَّبُعِ، فَقَالَ: "هُوَ صَيْدٌ وَفِيهِ كَبْشٌ إِذَا أَصَابَهُ الْمُحْرِمُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لکڑ بھگے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ صید ہے، یعنی شکار کیا جا سکتا ہے۔ اور اگر محرم اسے شکار کرے تو مینڈھا کفارہ میں دینا ہو گا۔“
حدیث نمبر: 1981
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ الضَّبُعِ آكُلُهُ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: هُوَ صَيْدٌ ؟ قَالَ: نَعَمْ" . قُلْتُ: سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ: نَعَمْ . قِيلَ لِأَبِي مُحَمَّدٍ: مَا تَقُولُ فِي الضَّبُعِ تَأْكُلُهُ ؟ قَالَ: أَنَا أَكْرَهُ أَكْلَهُ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن ابی عمار نے کہا: میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا لکڑ بھگا کھا سکتا ہوں؟ فرمایا: کھا سکتے ہو، میں نے کہا: کیا وہ شکار (کیا جا سکتا) ہے؟ فرمایا: ہاں، میں نے عرض کیا: کیا آپ نے ایسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ فرمایا: ہاں۔ امام دارمی رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا: آپ لکڑ بھگے کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ کھا سکتے ہیں؟ کہا: مجھے اس کا کھانا پسند نہیں۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 1979 سے 1981)
ضبع ایک جانور ہے، بعض شراح حدیث نے اس کا ترجمہ گوہ یا بجو سے کیا ہے جو درست نہیں ہے۔
یہ کتے کے برابر تقریباً کتے ہی کی طرح کا ایک جانور ہے جو شکار کیا جا سکتا ہے، کچھ علماء نے اس کے شکار سے درندہ ہونے کے سبب منع کیا ہے۔
والله اعلم۔
ضبع ایک جانور ہے، بعض شراح حدیث نے اس کا ترجمہ گوہ یا بجو سے کیا ہے جو درست نہیں ہے۔
یہ کتے کے برابر تقریباً کتے ہی کی طرح کا ایک جانور ہے جو شکار کیا جا سکتا ہے، کچھ علماء نے اس کے شکار سے درندہ ہونے کے سبب منع کیا ہے۔
والله اعلم۔