کتب حدیثسنن دارميابوابباب: رمضان المبارک میں عمرہ کرنے کی فضیلت
حدیث نمبر: 1897
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِامْرَأَةٍ: "اعْتَمِرِي فِي رَمَضَانَ، فَإِنَّ عُمْرَةً فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّةً".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت سے کہا: ”رمضان میں عمرہ کرو کیونکہ رمضان کا عمرہ حج کے برابر ہے۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 1896)
یعنی ثواب میں رمضان کا عمرہ حج کے برابر ہے، اور مذکورہ خاتون انصار میں سے تھیں اور اُم سنان یا اُم سلیم ان کا نام تھا۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب المناسك / حدیث: 1897
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1901]» ¤ اس روایت کی سند صحیح ہے اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1782] ، [مسلم 1256] ، [نسائي 2109] ، [ابن ماجه 2994] ، [ابن حبان 3700]
حدیث نمبر: 1898
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ عِيسَى بْنِ مَعْقِلِ بْنِ أَبِي مَعْقَلٍ الْأَسَدِيِّ أَسَدُ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ مَعْقَلٍ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّةً".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ ام معقل رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان کا عمرہ حج کے برابر ہے۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 1897)
اس حدیث سے رمضان میں عمرے کی فضیلت ثابت ہوئی، جس ماہِ مبارک میں نوافل کا درجہ فرائض کے برابر ہو جاتا ہے اور فرائض کا ستر گنا زیادہ ثواب ہو جاتا ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دونگا۔
اس لئے رمضان میں جو بھی نیک کام کیا جائے اس کا بہت بڑا اجر ہے، صدقہ و خیرات اور عمرہ اسی فضیلت میں داخل ہیں۔
واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب المناسك / حدیث: 1898
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده جيد لولا عنعنة ابن إسحاق
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد لولا عنعنة ابن إسحاق، [مكتبه الشامله نمبر: 1902]» ¤ اس روایت کی سند میں کلام ہے، لیکن حدیث کا معنی صحیح ہے جیسا کہ اوپر گذر چکا ہے۔ حوالہ دیکھئے: [أبوداؤد 1989] ، [أحمد 405/6]