حدیث نمبر: 1885
أَخْبَرَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ صَلَاةٌ، إِلَّا أَنَّ اللَّهَ أَحَلَّ فِيهِ الْمَنْطِقَ، فَمَنْ نَطَقَ فِيهِ، فَلَا يَنْطِقْ إِلَّا بِخَيْرٍ" .
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت اللہ کا طواف نماز (کی طرح عبادت) ہے، ہاں اس میں اللہ تعالیٰ نے بات کرنے کی اجازت دی ہے، پس اگر کوئی طواف کے دوران بات کرنا چاہے تو اچھی بات کرے۔“
حدیث نمبر: 1886
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
اس طریق سے بھی مذکورہ بالا حدیث مروی ہے، ترجمہ اوپر گزر چکا ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 1884 سے 1886)
احادیثِ باب سے طواف کے دوران بات چیت کرنے کا جواز ثابت ہوا، لیکن مستحب یہ ہے کہ آدمی بلاضرورت طواف کے دوران بات نہ کرے بلکہ اپنے دل و دماغ کو ذکرِ الٰہی و دعا و تلاوت یا علمی باتوں میں مشغول رکھے۔
واللہ اعلم۔
احادیثِ باب سے طواف کے دوران بات چیت کرنے کا جواز ثابت ہوا، لیکن مستحب یہ ہے کہ آدمی بلاضرورت طواف کے دوران بات نہ کرے بلکہ اپنے دل و دماغ کو ذکرِ الٰہی و دعا و تلاوت یا علمی باتوں میں مشغول رکھے۔
واللہ اعلم۔