حدیث نمبر: 1857
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: "احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں پچھنا لگوایا۔
حدیث نمبر: 1858
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ، قَالَ: "احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْيِ جَمَلٍ، وَهُوَ مُحْرِمٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبدالله بن بحینہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کہ آپ محرم تھے، مقام لحی جمل میں پچھنا لگوایا۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 1856 سے 1858)
لحی جمل ایک جگہ کا نام ہے جو مکہ اور مدینہ کے درمیان ہے، بخاری شریف میں ہے کہ یہ پچھنا یاسینگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سرِ مبارک میں لگوایا، اس سے معلوم ہوا کہ بوقتِ ضرورت محرم پچھنا لگوا سکتا ہے، مروجہ اعمالِ جراحیہ کو بھی بوقتِ ضرورتِ شدید اسی پر قیاس کیا جا سکتا ہے۔
لحی جمل ایک جگہ کا نام ہے جو مکہ اور مدینہ کے درمیان ہے، بخاری شریف میں ہے کہ یہ پچھنا یاسینگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سرِ مبارک میں لگوایا، اس سے معلوم ہوا کہ بوقتِ ضرورت محرم پچھنا لگوا سکتا ہے، مروجہ اعمالِ جراحیہ کو بھی بوقتِ ضرورتِ شدید اسی پر قیاس کیا جا سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 1859
حَدَّثَنَا إِسْحَاق، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، وَطَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ" . قَالَ إِسْحَاق L927: قَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: عَنْ عَطَاءٍ، وَمَرَّةً، عَنْ طَاوُسٍ، وَجَمَعَهُمَا مَرَّةً.
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کی حالت میں پچھنا لگوایا۔ اسحاق راہویہ نے کہا: سفیان نے ایک مرتبہ عطا سے روایت کی اور ایک مرتبہ طاؤس سے اور ایک مرتبہ دونوں سے روایت کیا۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 1858)
ان روایاتِ صحیحہ کے پیشِ نظر علمائے کرام نے حالتِ احرام میں پچھنا لگوانے کے جواز پر اجماع کیا ہے چاہے سر میں پچھنا لگوایا جائے یا اور کسی مقام پر، ضرورت ہو یا نہ ہو، شرط یہ ہے کہ بال نہ کاٹنے پڑیں، اگر بال ٹوٹے یا کاٹنے پڑے تو فدیہ (دم) دینا واجب ہوگا، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر حسبِ ضرورت سر کے بال منڈانے پڑے یا کپڑا سلا ہوا پہننا پڑے یا شکار کو مار گرائے تو محرم پر ان سب امور میں فدیہ (دم) واجب ہے۔
(وحیدی بتصرف)۔
ان روایاتِ صحیحہ کے پیشِ نظر علمائے کرام نے حالتِ احرام میں پچھنا لگوانے کے جواز پر اجماع کیا ہے چاہے سر میں پچھنا لگوایا جائے یا اور کسی مقام پر، ضرورت ہو یا نہ ہو، شرط یہ ہے کہ بال نہ کاٹنے پڑیں، اگر بال ٹوٹے یا کاٹنے پڑے تو فدیہ (دم) دینا واجب ہوگا، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر حسبِ ضرورت سر کے بال منڈانے پڑے یا کپڑا سلا ہوا پہننا پڑے یا شکار کو مار گرائے تو محرم پر ان سب امور میں فدیہ (دم) واجب ہے۔
(وحیدی بتصرف)۔