کتب حدیثسنن دارميابوابباب: روزے دار جس کے پاس افطار کرے اس کے لئے دعا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1810
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَفْطَرَ عِنْدَ أُنَاسٍ، قَالَ: "أَفْطَرَ عِنْدَكُمْ الصَّائِمُونَ، وَأَكَلَ طَعَامَكُمْ الْأَبْرَارُ، وَتَنَزَّلَتْ عَلَيْكُمْ الْمَلَائِكَةُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم جب لوگوں کے پاس افطار کرتے تو یہ دعا پڑھتے تھے «أَفْطَرَ عِنْدَكُمْ ...... عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ» یعنی تمہارے پاس روزے دار افطار کریں، نیک لوگ تمہارا کھانا کھائیں، اور (رحمت کے) فرشتے تمہارے پاس آئیں۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 1809)
سنن ابی داؤد میں «تَنَزَّلَتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ» کی جگہ «وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ» ہے جو زیادہ مناسب ہے، اور امام دارمی رحمہ اللہ کے علاوہ کسی نے اس طرح روایت نہیں کیا، نیز یہ کہ اس دعا کے لئے ضروری نہیں کہ جس کے پاس افطار کیا جائے اسی کو یہ دعا دی جائے، بلکہ جس کے پاس بھی کھانا کھایا جائے یہ دعا دینی چاہیے (کما عند ابی داؤد)۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الصوم / حدیث: 1810
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1813]» ¤ اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 3854] ، [أبويعلی 4319، 4320] ، [أحمد 118/3، 138]