حدیث نمبر: 1787
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ، عَنْ أُخْتِهِ يُقَالُ لَهَا الصَّمَّاءُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "لَا تَصُومُوا يَوْمَ السَّبْتِ إِلَّا فِيمَا افْتُرِضَ عَلَيْكُمْ، وَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلَّا كَذَا أَوْ لِحَاءَ شَجَرَةٍ فَلْيَمْضَغْهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عبداللہ بن بسر نے اپنی بہن سے روایت کیا جن کا نام صماء تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرض روزے کے علاوہ ہفتہ کا روزہ نہ رکھو، اور اگر ہفتے کے دن کھانے کو کچھ نہ ملے، کسی درخت کی چھال ہی مل جائے تو اسی کو چبا لے۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 1786)
یعنی درخت کی چھال ہی چبا لے، اور ایک روایت میں ہے انگور کی شاخ ہی مل جائے تو اسے چوس لے اور روزہ نہ رکھے، اس روایت کی صحت میں بہت کلام ہے، علی فرضِ صحت اس کا مطلب یہ ہوگا کہ صرف ہفتہ کا روزہ خصوصیت سے نہ رکھے بلکہ جمعہ کے روزے کی طرح ایک دن قبل یا ایک دن بعد بھی روزہ رکھے۔
واللہ علم۔
یعنی درخت کی چھال ہی چبا لے، اور ایک روایت میں ہے انگور کی شاخ ہی مل جائے تو اسے چوس لے اور روزہ نہ رکھے، اس روایت کی صحت میں بہت کلام ہے، علی فرضِ صحت اس کا مطلب یہ ہوگا کہ صرف ہفتہ کا روزہ خصوصیت سے نہ رکھے بلکہ جمعہ کے روزے کی طرح ایک دن قبل یا ایک دن بعد بھی روزہ رکھے۔
واللہ علم۔