کتب حدیثسنن دارميابوابباب: مہینے کے آخر میں روزہ رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 1780
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ: "هَلْ صُمْتَ مِنْ سَرَرِ هَذَا الشَّهْرِ ؟"فَقَالَ: لَا . قَالَ: "إِذَا أَفْطَرْتَ مِنْ رَمَضَانَ، فَصُمْ يَوْمَيْنِ" . قَالَ أَبُو مُحَمَّد: سَرَرُهُ: آخِرُهُ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا: ”کیا تم نے اس مہینے کے آخر میں روزہ رکھا؟“ عرض کیا: نہیں، فرمایا: ”جب تم رمضان کے روزے رکھ چکو تو مہینے کے آخر میں دو روزے رکھ لو۔“ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: «سرره» سے مراد آخرہ ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 1777 سے 1780)
امام دارمی رحمہ اللہ نے «سَرَرُهُ» کا معنی مہینے کا آخر اور بعض لوگوں نے مہینے کا شروع لیا ہے اور بعض نے مہینے کا وسط۔
بعض روایات میں سرر شعبان مذکور ہے جو اگر آخر شہر مراد ہو تو رمضان کے استقبال میں ایک دو دن پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت سے اس حدیث میں تعارض ہوگا، اور اگر مہینے کا شروع لیا جائے تو اشکال ختم ہو جائے گا۔
(والله اعلم)۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الصوم / حدیث: 1780
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1783]» ¤ اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1983] ، [مسلم 1161] ، [أبوداؤد 2328] ، [ابن حبان 3587]