کتب حدیث ›
سنن دارمي › ابواب
› باب: کسی روزے دار کو اگر کھانے کے لئے مدعو کیا جائے تو وہ کہہ دے میں روزے سے ہوں
حدیث نمبر: 1775
أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى طَعَامٍ وَهُوَ صَائِمٌ، فَلْيَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص کھانے کے واسطے بلایا جائے اور وہ روزے دار ہو تو اس کو کہہ دینا چاہیے کہ میں روزے دار ہوں۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 1774)
نفلی عبادت کا چھپانا بہتر ہے، مگر کسی کو کھانے کے لئے مدعو کیا جائے اور وہ روزے سے ہو تو بتا دینا چاہیے کہ میرا روزہ ہے تاکہ بلانے والے کو رنج نہ ہو، کیونکہ مسلمان کو رنج دینا بڑا گناہ ہے، بلکہ اگر یہ بتا دینے کے بعد بھی کہ وہ روزے سے ہے اور وہ نہ کھانے سے رنجیدہ ہوتا ہے تو بہتر یہ ہے کہ اگر نفلی روزہ ہو تو توڑ دے اور کھانا کھا لے۔
نفلی عبادت کا چھپانا بہتر ہے، مگر کسی کو کھانے کے لئے مدعو کیا جائے اور وہ روزے سے ہو تو بتا دینا چاہیے کہ میرا روزہ ہے تاکہ بلانے والے کو رنج نہ ہو، کیونکہ مسلمان کو رنج دینا بڑا گناہ ہے، بلکہ اگر یہ بتا دینے کے بعد بھی کہ وہ روزے سے ہے اور وہ نہ کھانے سے رنجیدہ ہوتا ہے تو بہتر یہ ہے کہ اگر نفلی روزہ ہو تو توڑ دے اور کھانا کھا لے۔