کتب حدیث ›
سنن دارمي › ابواب
› باب: «فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ» کی تفسیر کا بیان
حدیث نمبر: 1772
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي بَكْرٌ هُوَ ابْنُ مُضَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ سَلَمَةَ، أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ سورة البقرة آية 184، قَالَ: "كَانَ مَنْ أَرَادَ أَنْ يُفْطِرَ وَيَفْتَدِيَ، فَعَلَ، حَتَّى نَزَلَتْ الْآيَةُ الَّتِي بَعْدَهَا، فَنَسَخَتْهَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے کہا: جب یہ آیت ”جو لوگ روزے کی طاقت رکھتے ہوں تو بھی ایک مسکین کا کھانا فدیہ دے دیں“، [بقرة: 184/2] نازل ہوئی تو ہم میں جس کا جی چاہتا روزہ نہ رکھتا وہ فدیہ دے دیتا یہاں تک کہ یہ حکم نازل ہوا «فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ» یعنی ”جو رمضان کا مہینہ پا لے وہ روزہ رکھے“، [البقرة: 185/2] اور جو اختیار پہلے تھا (روزہ نہ رکھنے کا) وہ منسوخ ہو گیا۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 1771)
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اب سب کو روزہ رکھنا ضروری ہے سوائے مسافر اور مریض، حائضہ اور نفاس والی عورت کے، ان کے لئے اجازت ہے کہ رمضان کے روزے نہ رکھیں بعد میں اس کی قضا کر لیں، بعض علماء نے کہا کہ پہلی آیت منسوخ نہیں بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ جو لوگ پہلے روزے کی طاقت رکھتے تھے لیکن اب بے طاقت ہوگئے جیسے (بوڑھا اور مریض وغیرہ) ان کو اختیار ہے فدیہ دیں یا روزہ رکھیں۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اب سب کو روزہ رکھنا ضروری ہے سوائے مسافر اور مریض، حائضہ اور نفاس والی عورت کے، ان کے لئے اجازت ہے کہ رمضان کے روزے نہ رکھیں بعد میں اس کی قضا کر لیں، بعض علماء نے کہا کہ پہلی آیت منسوخ نہیں بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ جو لوگ پہلے روزے کی طاقت رکھتے تھے لیکن اب بے طاقت ہوگئے جیسے (بوڑھا اور مریض وغیرہ) ان کو اختیار ہے فدیہ دیں یا روزہ رکھیں۔