حدیث نمبر: 1757
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،، أَنَّهُ قَالَ لِامْرَأَةٍ: "لَا تَصُومِي إِلَّا بِإِذْنِهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت سے کہا: ”تم شوہر کی اجازت کے بنا روزہ نہ رکھو۔“
حدیث نمبر: 1758
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "لَا تَصُومُ الْمَرْأَةُ يَوْمًا تَطَوُّعًا فِي غَيْرِ رَمَضَانَ، وَزَوْجُهَا شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت اپنے شوہر کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر رمضان کے علاوہ ایک دن کا بھی نفلی روزہ نہ رکھے۔“
وضاحت:
(تشریح احادیث 1756 سے 1758)
نفلی روزہ نفلی عبادت ہے اور خاوند کی اطاعت عورت کے اوپر فرض ہے اس لئے نفلی عبادت سے زیادہ فرض کی ادائیگی ضروری ہے، مرد دن میں اگر اپنی بیوی سے ملاپ کرنا چاہے تو عورت کو نفلی روزہ ختم کرنا ہو گا، لہٰذا پہلے ہی اجازت لے کر اگر روزہ رکھے تو بہتر ہے (مولانا راز رحمۃ اللہ علیہ)۔
نفلی روزہ نفلی عبادت ہے اور خاوند کی اطاعت عورت کے اوپر فرض ہے اس لئے نفلی عبادت سے زیادہ فرض کی ادائیگی ضروری ہے، مرد دن میں اگر اپنی بیوی سے ملاپ کرنا چاہے تو عورت کو نفلی روزہ ختم کرنا ہو گا، لہٰذا پہلے ہی اجازت لے کر اگر روزہ رکھے تو بہتر ہے (مولانا راز رحمۃ اللہ علیہ)۔
حدیث نمبر: 1759
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "لَا تَصُومُ الْمَرْأَةُ يَوْمًا وَزَوْجُهَا شَاهِدٌ، إِلَّا بِإِذْنِهِ" . قَالَ: فِي النُّذُورِ تَفِي بِهَا.
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر شوہر موجود ہو تو عورت اس کی اجازت کے بغیر ایک دن کا بھی نفلی روزہ نہ رکھے“، فرمایا: ”نذر کا روزہ پورا کرے۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 1758)
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ عورت کو نفلی روزہ رکھنے کے لئے شوہر کی اجازت لینا ضروری ہے، اس سے شوہر کا حق بھی معلوم ہوا نیز یہ بھی پتہ چلا کہ فرض روزے کے لئے شوہر کی اجازت کی ضرورت نہیں، اسی طرح فرض نماز و زکاۃ ہے کہ اس کے لئے شوہر سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ عورت کو نفلی روزہ رکھنے کے لئے شوہر کی اجازت لینا ضروری ہے، اس سے شوہر کا حق بھی معلوم ہوا نیز یہ بھی پتہ چلا کہ فرض روزے کے لئے شوہر کی اجازت کی ضرورت نہیں، اسی طرح فرض نماز و زکاۃ ہے کہ اس کے لئے شوہر سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔