حدیث نمبر: 1729
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهِ عَنْهُ، قَالَ: تَرَاءَى النَّاسُ الْهِلَالَ، فَأَخْبَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي رَأَيْتُهُ،"فَصَامَ وَأَمَرَ النَّاسَ بِالصِّيَامِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: لوگوں نے چاند دیکھا (لیکن دکھلائی نہ دیا)، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں نے چاند دیکھا ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھ لیا اور لوگوں کو روزہ رکھنے کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 1730
حَدَّثَنِي عِصْمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهِ عَنْهُمَا، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ الْهِلَالَ . فَقَالَ: "أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟"قَالَ: نَعَمْ . قَالَ: "يَا بِلَالُ، نَادِ فِي النَّاسِ، فَلْيَصُومُوا غَدًا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ایک اعرابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ: میں نے چاند دیکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں؟“ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بلال! لوگوں میں منادی کر دو کہ وہ کل روزہ رکھیں۔“
وضاحت:
(تشریح احادیث 1728 سے 1730)
مذکور بالا احادیث سے معلوم ہوا کہ رمضان کے رؤیتِ ہلال کے لئے ایک آدمی کی شہادت کافی ہے لیکن شوال کے رؤیتِ ہلال کے لئے دو آدمی کی شہادت ضروری ہے جیسا کہ سنن ابی داؤد وغیرہ میں ہے دیکھئے: [أبوداؤد 2337، 2340]۔
مذکور بالا احادیث سے معلوم ہوا کہ رمضان کے رؤیتِ ہلال کے لئے ایک آدمی کی شہادت کافی ہے لیکن شوال کے رؤیتِ ہلال کے لئے دو آدمی کی شہادت ضروری ہے جیسا کہ سنن ابی داؤد وغیرہ میں ہے دیکھئے: [أبوداؤد 2337، 2340]۔