حدیث نمبر: 1717
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الصَّدَقَاتِ أَيُّهَا أَفْضَلُ ؟ قَالَ: "عَلَى ذِي الرَّحِمِ الْكَاشِحِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون سا صدقہ افضل ہے؟ فرمایا: ”وہ صدقہ جو بغض و عداوت رکھنے والے رشتے دار پر کیا گیا ہو۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 1716)
یعنی وہ عزیز و رشتے دار جو اپنے پہلو میں بغض و عداوت چھپائے رکھتا ہو اس کو صدقہ دینا سب سے افضل ہے۔
یعنی وہ عزیز و رشتے دار جو اپنے پہلو میں بغض و عداوت چھپائے رکھتا ہو اس کو صدقہ دینا سب سے افضل ہے۔
حدیث نمبر: 1718
أَخْبَرَنَا أَبُو حَاتِمٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ الرَّائِحِ بِنْتِ صُلَيْعٍ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ، ذَكَرَ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "إِنَّ الصَّدَقَةَ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ، وَإِنَّهَا عَلَى ذِي الرَّحِمِ اثْنَتَانِ، صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا سلمان بن عامر ضبی رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسکین کو صدقہ دینا صدقہ ہے اور رشتے دار کو صدقہ دینا صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 1717)
یعنی فقیر و محتاج کو صدقہ دینے پر صدقے کا ثواب ہے لیکن عزیز و رشتے دار کو صدقہ دینے کا دوہرا اجر ہے، اجرِ قرابت داری اور اجرِ صدقہ۔
یعنی فقیر و محتاج کو صدقہ دینے پر صدقے کا ثواب ہے لیکن عزیز و رشتے دار کو صدقہ دینے کا دوہرا اجر ہے، اجرِ قرابت داری اور اجرِ صدقہ۔
حدیث نمبر: 1719
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ: وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ الرَّبَابِ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ يَرْفَعُهُ، قَالَ: "الصَّدَقَةُ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ، وَهِيَ عَلَى ذِي الرَّحِمِ اثْنَتَانِ: صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا سلمان بن عامرضبی رضی اللہ عنہ نے مرفوعاً روایت کرتے ہوئے کہا: مسکین پر صدقہ کرنا صدقہ ہے اور رشتے دار پر صدقہ کرنا دو چیز ہیں صدقہ اور صلہ (رحمی)۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 1718)
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ عزیز و رشتے داروں پر صدقہ کرنا دُہرے ثواب کا موجب ہے اور ایسا کرنے والا ڈبل ثواب کا مستحق ہے۔
لہٰذا اپنے عزیز و اقارب کا دھیان رکھنا چاہئے اور ان کی ہر ممکن طریقے سے مدد کرنی چاہئے۔
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ عزیز و رشتے داروں پر صدقہ کرنا دُہرے ثواب کا موجب ہے اور ایسا کرنے والا ڈبل ثواب کا مستحق ہے۔
لہٰذا اپنے عزیز و اقارب کا دھیان رکھنا چاہئے اور ان کی ہر ممکن طریقے سے مدد کرنی چاہئے۔