کتب حدیثسنن دارميابوابباب: جو شخص غنی ہو کر مانگے اس کے لئے سخت وعید کا بیان
حدیث نمبر: 1682
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تُلْحِفُوا بِي فِي الْمَسْأَلَةِ فَوَاللَّهِ لَا يَسْأَلُنِي أَحَدٌ شَيْئًا فَأُعْطِيَهُ وَأَنَا كَارِهٌ، فَيُبَارَكَ لَهُ فِيهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ سے چمٹ کر نہ مانگو، قسم اللہ کی جو کوئی مجھ سے مانگے اور میں ناپسند کرنے کے باوجود اسے دیدوں، ممکن نہیں کہ اس میں اس کے لئے برکت ہو۔“
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الزكاة / حدیث: 1682
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1684]» ¤ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1038] ، [نسائي 2592] ، [ابن حبان 3389] ، [مسند الحميدي 615]
حدیث نمبر: 1683
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ هُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ سَأَلَ النَّاسَ مَسْأَلَةً وَهُوَ عَنْهَا غَنِيٌّ، كَانَتْ شَيْنًا فِي وَجْهِهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مال داری کے باوجود کسی سے کچھ مانگے وہ اس کے چہرے پر داغ ہو گی۔“
وضاحت:
(تشریح احادیث 1681 سے 1683)
ان احادیث میں گڑگڑا کر اصرار کے ساتھ بھیک مانگنے کی ممانعت ہے اور جو ایسا کرے گا تو چاہے دینے والے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کیوں نہ ہوں اس میں برکت نہ ہوگی، دوسری حدیث میں بے ضرورت اور مال ہوتے ہوئے مانگنے والے کے لئے شدید وعید ہے۔
قرآن پاک میں ہے جو لوگ چمٹ کر نہیں مانگتے وہی لوگ صدقات کے مستحق ہیں: «﴿تَعْرِفُهُمْ بِسِيمَاهُمْ لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا ...﴾ [البقره: 273]» (ترجمہ: آپ ان کے چہرے دیکھ کر قیافے سے انہیں پہچان لیں گے وہ لوگوں سے چمٹ کر سوال نہیں کرتے)، گویا اہلِ ایمان کی صفت یہ ہے کہ فقر و غربت کے باوجود وہ مانگنے سے بچتے ہیں اور چمٹ کر سوال کرنے سے گریز کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الزكاة / حدیث: 1683
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1685]» ¤ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مجمع الزوائد 4589]