حدیث نمبر: 1654
أَخْبَرَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: "لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي تَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ، وَالْكِسْرَةُ وَالْكِسْرَتَانِ، وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ، وَلَكِنْ الْمِسْكِينُ الَّذِي لَيْسَ لَهُ غِنًى يُغْنِيهِ، يَسْتَحْيِي أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ إِلْحَافًا، أَوْ لَا يَسْأَلُ النَّاسَ إِلْحَافًا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسکین وہ نہیں جسے ایک دو لقمے یا ایک دو ٹکڑے یا ایک دو کھجور در در پھرائیں، مسکین تو وہ ہے جس کے پاس مال نہیں لیکن اس کو مانگنے سے شرم آتی ہے، یا وہ لوگوں سے چمٹ کر نہیں مانگتا ہے۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 1653)
اس حدیث سے مسکین کی تحدید ہوگئی، اصلاً روزانہ پھیری لگانے والے سب ہی مسکین نہیں ہوتے بلکہ حقیقتاً مسکین تو وہ ہے جو فقیر اور محتاج ہو لیکن شرم کی وجہ سے کسی کے سامنے دستِ سوال دراز نہ کرے، ایسے مسکین کو تلاش کر کے ایسے ہی لوگوں کو زکاة دینی چاہیے اور یہ ہی زکاة کے زیادہ مستحق ہیں۔
واللہ علم
اس حدیث سے مسکین کی تحدید ہوگئی، اصلاً روزانہ پھیری لگانے والے سب ہی مسکین نہیں ہوتے بلکہ حقیقتاً مسکین تو وہ ہے جو فقیر اور محتاج ہو لیکن شرم کی وجہ سے کسی کے سامنے دستِ سوال دراز نہ کرے، ایسے مسکین کو تلاش کر کے ایسے ہی لوگوں کو زکاة دینی چاہیے اور یہ ہی زکاة کے زیادہ مستحق ہیں۔
واللہ علم