حدیث نمبر: Q6692
وَقَوْلِهِ : يُوفُونَ بِالنَّذْرِ سورة الإنسان آية 7 " .
مولانا داود راز
اور اللہ تعالیٰ کا ( سورۃ الدہر میں ) ارشاد «يوفون بالنذر» ” وہ جو اپنی منت ، نذر پوری کرتے ہیں ۔ “
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: Q6692
حدیث نمبر: 6692
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : أَوَلَمْ يُنْهَوْا عَنِ النَّذْرِ ، إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ النَّذْرَ لَا يُقَدِّمُ شَيْئًا وَلَا يُؤَخِّرُ ، وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِالنَّذْرِ مِنَ الْبَخِيلِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے یحییٰ بن صالح نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے سعید بن الحارث نے بیان کیا ، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا ،` انہوں نے کہا ، کیا لوگوں کو نذر سے منع نہیں کیا گیا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نذر کسی چیز کو نہ آگے کر سکتی ہے نہ پیچھے ، البتہ اس کے ذریعہ بخیل کا مال نکالا جا سکتا ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6692
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 6693
حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّذْرِ ، وَقَالَ : إِنَّهُ لَا يَرُدُّ شَيْئًا ، وَلَكِنَّهُ يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے منصور نے ، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مرہ نے خبر دی ، اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نذر سے منع فرمایا تھا اور فرمایا تھا کہ وہ کسی چیز کو واپس نہیں کر سکتی ، البتہ اس کے ذریعہ بخیل کا مال نکالا جا سکتا ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6693
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 6694
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَأْتِي ابْنَ آدَمَ النَّذْرُ بِشَيْءٍ لَمْ يَكُنْ قُدِّرَ لَهُ ، وَلَكِنْ يُلْقِيهِ النَّذْرُ إِلَى الْقَدَرِ قَدْ قُدِّرَ لَهُ ، فَيَسْتَخْرِجُ اللَّهُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ ، فَيُؤْتِي عَلَيْهِ مَا لَمْ يَكُنْ يُؤْتِي عَلَيْهِ مِنْ قَبْلُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا ، ان سے اعرج نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” نذر انسان کو کوئی ایسی چیز نہیں دیتی جو اس کے مقدر میں نہ ہو ، البتہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ بخیل سے اس کا مال نکلواتا ہے اور اس طرح وہ چیزیں صدقہ کر دیتا ہے جس کی اس سے پہلے اس کی امید نہیں کی جا سکتی تھی ۔“
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6694
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»