حدیث نمبر: 6690
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ ، وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيهِ حِينَ عَمِيَ ، قَالَ : سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ فِي حَدِيثِهِ : وَعَلَى الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا ، فَقَالَ فِي آخِرِ حَدِيثِهِ : إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنِّي أَنْخَلِعُ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ، فَقَال النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ " .
مولانا داود راز
´ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا ، کہا مجھ کو یونس نے خبر دی ، انہیں ابن شہاب نے ، کہا مجھے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک نے خبر دی ،` جب کعب رضی اللہ عنہ نابینا ہو گئے تھے تو ان کی اولاد میں ایک یہی کہیں آنے جانے میں ان کے ساتھ رہتے تھے ۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے ان کے واقعہ اور آیت «على الثلاثة الذين خلفوا» کے سلسلہ میں سنا ، انہوں نے اپنی حدیث کے آخر میں کہا کہ ( میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ پیش کش کی کہ ) اپنی توبہ کی خوشی میں میں اپنا مال اللہ اور اس کے رسول کے دین کی خدمت میں صدقہ کر دوں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اپنا کچھ مال اپنے پاس ہی رکھو ، یہ تمہارے لیے بہتر ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6690
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»